خالصہ تحریک کا تجربہ
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
وجود میں لانا ہوگا۔ اس کے بعد ہی وہ آج کی دنیا میں اپنے لیے کوئی نیا دور پیدا کر سکتے ہیں۔ شکایت اور احتجاج کے ذریعہ انھیں کچھ ملنے والا نہیں۔ غلط تقابل ایک صاحب نے یہ سوال کیا ہے کہ کچھ مسلمانوں کو اگر کہا جائے کہ آج کل مسلمان بہت زیادہ انسانوں کے قتلِ عام میں ملوث ہیں، تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ عالمی جنگوں میں بے شمار آدمی قتل کیے گئے، ہٹلر نے ہزاروں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، وغیرہ۔ یہ کہہ کر گویا وہ مسلمانوں کے ہاتھوں ہونے والے قتل کا جواز دیتے ہیں۔ مولانا اس میں مغالطہ کیا ہے، واضح کریں۔ (ایک قاری الرسالہ، دہلی) اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک غلط تقابل (wrong comparison) ہے۔ اس معاملے میں دیکھنے کی اصل بات یہ ہے کہ فرسٹ ورلڈ وار اور سیکنڈ ورلڈ وار میں جو قومیں شریک تھیں، انھوں نے جنگوں کے تجربے کے بعد کیا کیا۔ اس معاملے میں ان کا آخری نمونہ قابل اعتبار ہے، نہ کہ درمیان کا نمونہ۔ واقعات بتاتے ہیں کہ جو قومیں فرسٹ ورلڈ وار اور سیکنڈ ورلڈ وار میں شامل تھیں، تجربے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ ان جنگوں میں انھوں نے صرف نقصان اٹھایا، جنگ کا طریقہ ان کے لیے پورے معنوں میں کاؤنٹر پروڈکٹیو ثابت ہوا۔ اس تجربے کے بعد ان قوموں کے قائدین نے دوبارہ غور کیا۔ انھوں نے پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لیا۔ اس کے بعد حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader