Urdu book · منصوبہ بند عمل

خالصہ تحریک کا تجربہ

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

میں جی رہے ہیں۔ وہ دوسروں کو ظالم اور اپنے کو مظلوم سمجھتے ہیں۔ اس ذہن کی بنا پر ان کے اندر مثبت سوچ (positive thinking) کا ڈیولپمنٹ نہیں ہوا۔ وہ اپنی ماضی کی گلوری کو جانتے ہیں، لیکن وہ حال کے مواقع سے بے خبر ہیں۔ وہ شکایت کلچر کو جانتے ہیں، لیکن وہ مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی سے واقف نہیں۔ ان کی سوچ اپنے مفروضہ ظالموں کی شکایت پر قائم ہے۔ اس بنا پر وہ اپنے آپ کو مظلومیت کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اگر اس منفی سوچ سے باہر آئیں تو وہ دریافت کریں گے کہ فیصلے کی جو بنیاد زمانے نے فراہم کی ہے، وہ عین ان کے حق میں ہے۔ آج کا زمانہ پوری طرح بدلا ہوا زمانہ ہے۔ لیکن مسلمان گزرے ہوئے ماضی کے دور میں جی رہے ہیں۔ وہ عملاً تاریخ کے قیدی (prisoners of history) بنے ہوئے ہیں۔ یہی مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے، اور اسی کی اصلاح سے ان کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ لکھنؤ کے ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی (1913-1974) مسلم مجلس مشاورت کے تاسیسی صدر تھے۔ انھوں نے ایک روزنامہ اردو اخبار نکالا تھا، قائد۔ اس میں انھوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ مسلم صحافت ایک احتجاجی صحافت ( protestant journalism) ہے۔ مسلمانوں کی موجودہ زمانے کی پوری صحافت پر صادق آتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان کو اس کے بجائے تخلیقی صحافت (creative journalism) کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page