منصوبہ بند عمل
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
سبق لینا، اور جنگ کا طریقہ چھوڑ کر پر امن تعمیر کا طریقہ اختیار کرنا۔ دوسروں کی غلطیوں سے اپنے لیے جواز (justification) نکالنا سخت قسم کی بے دانشی ہے۔ اگر آپ اپنے مفروضہ دشمن کی گردن کاٹیں، اور کہیں کہ فلاں لوگوں نے بھی لوگوں کی گردمیں کاٹی تھیں، تو یہ ایک سرکشی کی بات ہوگی۔ دوسروں کا تجربہ سبق لینے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ اپنی غلطی کو جائز ٹھہرانے کے لیے۔ اس سلسلے میں صحابی رسول عبداللہ ابن مسعود کا ایک حکیمانہ قول ان الفاظ میں آیا ہے: السعيد من وعظ بغيره (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2645)۔ یعنی بامراد وہ ہے، جو دوسروں سے اپنے لیے نصیحت حاصل کرے۔ دوسروں کی نقل کرنا، نادانی ہے، اور دوسروں سے مفید نصیحت لینا، دانش مندی۔ خلاصۂ کلام دور جدید میں امت مسلمہ کا مسئلہ، اس کے احیاء کا مسئلہ تھا۔ اس مقصد کے لیے مسلم جد و جہد کی تاریخ غالباً 1799 سے شروع ہوتی ہے جب کہ میسور کے سلطان ٹیپو برٹش فوج سے لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے ۔ یہ جد و جہد اکیسویں صدی میں بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ مگر جان و مال کی بے شمار قربانیوں کے باوجود نتیجہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہوا۔ یعنی فائدہ تو کچھ نہیں ہوا، البتہ نقصان میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اس نا کام تجربے کا تقاضا یہ ہے کہ اب مسلمان تو بہ جمیع (النور، 24:31) کا طریقہ اختیار کریں۔ یعنی یوٹرن (U-Turn) کا طریقہ۔ وہ اپنی کوششوں کا دوبارہ جائزہ (re-assessment) کریں، اور پھر اپنے عمل کی ری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader