خلاصۂ کلام
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
پلاننگ (re-planning) کریں۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت یہ ہے کہ وہ اپنے ثابت شدہ ناکام تجربوں کو دوبارہ نئے نئے نام کے ساتھ دہرارہے ہیں۔ مثلاً مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کا اسلاموفوبیا کا نظریہ، مصر میں الاخوان المسلمون کی اسٹریٹ ایکٹوزم، فلسطین والوں کی خودکش بمباری (suicide bombing)، پاکستان کی پراکسی وار (proxy war)، کشمیریوں کا پتھر مارنا (stone pelting)، انڈیا کے مسلمانوں کی احتجاجی صحافت (protestant journalism)، ایران کی اسلام دشمنوں کی دریافت، افغانستان کا طالبانائزیشن (talibanization)، وغیرہ۔ یہ سب ناکام تجربات کو بے فائدہ دہرانے کے سوا اور کچھ نہیں: It is a futile repetition of a failed strategy. امت کا نیا مستقبل صرف نئی اور مثبت بنیاد پر کی ہوئی منصوبہ بندی کے ذریعہ بنایا جاسکتا ہے، اور نئی منصوبہ بندی کا پراسس (process) صرف اس اعتراف کے بعد شروع ہوتا ہے کہ اب تک ہم غلطی پر تھے (we were wrong)۔ غلطی کو مانے بغیر نئے مستقبل کی بات کرنا، ایسا ہے جیسے پودا لگائے بغیر ہرے بھرے باغ کا انتظار کرنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader