دیوار کے بغیر چھت
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں جانتا کہ ان کو ماڈرن زندگی میں کس طرح قائم رکھا جاسکتا ہے۔‘‘ ان فقروں میں پنڈت نہرو نے اپنے طبقے کے لوگوں کی نہایت صحیح ترجمانی کی ہے۔ جو لوگ مذہب سے الگ رہ کر اخلاقی قدروں کو زندہ کرنا چاہتے ہیں ان کی مشترک خصوصیت یہ ہے کہ وہ سب کے سب بے یقینی میں مبتلا ہیں۔ وہ خود اپنے مقدمہ کی کمزوری تسلیم کرتے ہیں۔ وہ ایک چیز کی ضرورت محسوس کرتے ہیں مگر انہیں نہیں معلوم کہ وہ انسانوں سے کس طرح اسے منوئیں۔ انہیں اپنے خیالات کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی۔ کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ایک شخص کوئی بدعنوانی کرتا ہے تو وہ اس لئے کرتا ہے کہ اس میں اسے اپنی تمنائیں پوری ہوتی نظر آتی ہیں۔ وہ اس کو اپنی ترقی اور کامیابی کا ذریعہ سمجھتا ہے، اس میں اسے عزت اور دولت پانے کی توقع ہوتی ہے۔ پھر آخر کس لئے وہ اسے چھوڑ دے گا۔ کیا محض اس لئے کہ کچھ لوگ اسے اخلاق اور انسانیت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ کیا محض کسی کے اپڈیش کی خاطر کوئی شخص ایسا کر سکتا ہے کہ نفع کے بجائے نقصان کو اپنے لئے قبول کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ انسانیت (مانوتا) کے نام پر لوگوں کو اخلاقیات کا پابند بنانا چاہتے ہیں وہ ہوا میں عمارت کھڑی کر رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ایسی عمارت کبھی وجود میں نہیں آسکتی۔ ایک مثال لیجئے ۔ ہندستانی ریلوں پر ہر ہیں مسافروں میں سے ایک آدمی بلیکٹ سفر کرتا ہے اور اس طرح مرکزی خزانہ کو تقریباً پانچ کروڑ روپئے سالانہ کا مسلسل نقصان ہو رہا ہے۔ اس وباء کی روک تھام کے لئے ملک بھر میں بارہ ہزار سات سو اشخاص ملازم ہیں جن پر ہر سال دو کروڑ انیس لاکھ روپئے صرف ہوتے ہیں۔ جب ہزاروں آدمیوں کا یہ عملہ اور سالانہ سوا دو کروڑ روپئے کا خرچ بلائکٹ سفر کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوا تو حکومت نے ایک اخلاقی تدبیر سوچی۔ حکومت کی طرف سے ایک خاص پوسٹر چھپا کر تمام اسٹیشنوں پر لگا دیا گیا جس پر لکھا ہوا تھا: (Ticketless travel is a social evil)۔ یعنی بے ٹکٹ سفر کرنا سماجی گناہ ہے۔ مگر اس کا حاصل سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوا کہ کرایہ وصول نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو جو نقصان ہو رہا تھا اس میں پروپیگنڈے کے اخراجات کا مزید اضافہ ہو گیا۔ اصل صورت حال بدستور اپنی جگہ باقی رہی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader