Urdu book · منزل کی طرف

منزل کی طرف

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں ان میں بار بار اس قسم کے فقرے دہرائے جارہے ہیں کہ اگر نوع انسانی اپنی خیریت چاہتی ہے تو اس کو لازماً کلچر کے ایک روحانی استحکام کی طرف پلٹنا ہوگا۔ اب اخلاقی انضباط کا دوبارہ حصول اور روحانی نظام کی طرف واپسی انسانی بقاء کے لئے ناگزیر بشرط کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ آج ایک نئی روحانی شیرازہ بندی کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ اخلاق اور کلچر کے درمیان وہ مرکزی تعلق بحال ہو جائے جو انسانی ارتقاء کی ہر سطح پر اور ہر دور میں موجود رہا ہے‘ (کرسٹو فر ڈاسن)۔ ان باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کو اصل ضرورت کا احساس ہو چکا ہے مگر اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے عام طور پر جن عملی شکلوں کا ذکر کیا جاتا ہے وہ یا تو غلط ہیں یا ناقص ہیں۔ دیوار کے بغیر چھت غلط شکل سے میری مراد وہ تجویزیں ہیں جو اس امید میں پیش کی جارہی ہیں کہ محض اخلاقی اپیلوں کے ذریعہ آدمی کے اندر اس قسم کا احساس پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علم بردار وہ لوگ ہیں جو مذہب پر عقیدہ نہیں رکھتے مگر اخلاق کی ضرورت بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس لئے چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا طریقہ دریافت ہو جائے کہ مذہب کی دیوار سے مدد لئے بغیر اخلاق کی چھت کھڑی ہو جائے۔ ہمارے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اسی گروہ کی ایک مثال ہیں۔ ۱۹۵۶ء کا واقعہ ہے۔ میک گل یونیورسٹی میں سیاست کے استاد پروفیسر مائیکل برپچر نے ایک انٹرویو کے دوران آپ سے سوال کیا۔ ”کیا آپ مختصر طور پر مجھے بتائیں گے کہ آپ کے نزدیک اچھے سماج کے لئے کیا چیزیں ضروری ہیں۔‘‘ وزیر اعظم نے جواب دیا: ”میں کچھ معیاروں کا قائل ہوں، وہ ہر فرد اور ہر سماجی گروہ کے لئے ضروری ہیں۔ اور اگر وہ معیار باقی نہ رہیں تو تمام مادی ترقی کے باوجود آپ کسی قابلِ قدر نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان معیاروں کو کس طرح برقرار رکھا جائے۔ ایک تو مذہبی طریقہ ہے، لیکن یہ اپنے تمام رسوم و تقریبات کے ساتھ مجھے تنگ نظر آتا ہے۔ میں اخلاقی اور روحانی قدروں کو مذہب سے علیحدہ رکھ کر بڑی اہمیت دیتا ہوں، لیکن میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page