Urdu book · منزل کی طرف

عیسائیت

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

عیسائیت دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جن کی امیدوں کا مرکز مذہبی تعلیمات ہیں۔ ان میں ایک تو عیسائیت کو ماننے والے ہیں جو بڑے زور و شور کے ساتھ اپنے مذہب کو ان مسائل کے حل کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں عیسائی مصنفین کی اچھی خاصی تعداد نے اس قسم کے مضامین لکھنے کو اپنا مستقل موضوع بنا لیا ہے جن میں بعض چوٹی کے مفکرین بھی شامل ہیں۔ اس مقصد کے لئے اجتماعی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ مثلاً سوئزر لینڈ سے ایک تحریک اٹھی ہے جس کا نام ہے اخلاقی اسلحہ بندی (Movement Moral Rear)۔ اس کے بانی ڈاکٹر فرینک بک مین ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ خدا پرستی کے تحت اخلاقی قدروں کو رواج دیا جائے اور لوگوں کے سوچنے کے انداز میں تبدیلی پیدا کی جائے خاص طور پر ایمان داری، پاکیزگی، بے غرضی، باہمی خیر خواہی اور محبت کو پھیلایا جائے۔ اسی طرح امریکہ میں خاص اسی مقصد کے لئے ایک ادارہ (Research Center Increative Attrilism) کے نام سے ۱۹۳۹ء سے قائم ہے جس کو ایک پلک فنڈ سے پندرہ ہزار ڈالر سالانہ کی امداد ملتی ہے۔ اس ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر سور و کین ہیں۔ ۱۹۴۱ء میں انہوں نے پہلی بار اپنی تحقیق و مطالعہ کے نتائج پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت سب سے اہم کام انسان کے اندرون یا اس کے نفس کی اصلاح ہے۔ جس پر تمام تر خود غرضی کا تسلط ہو گیا ہے۔ اور یہ ضروری ہے کہ اس کے برعکس اس میں بے لوث محبت کے اس جذبے کو پیدا کیا جائے اور ابھارا جائے جو آفاقی ہو۔ فرد کی اصلاح کے بغیر جو انقلاب بھی لایا جائے گا وہ بالکل سطحی ہوگا اور ساری کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ موجودہ حالات کا علاج تجویز کرتے ہوئے وہ اپنی کتاب (Crisis of Our Age) میں لکھتے ہیں: انسان کی پوری ذہنیت اور اس کے جملہ رجحانات میں اس تبدیلی کی ضرورت ہے جس کا رخ ان اصولوں کی طرف ہو جس کو پہاڑی کے وعظ میں پیش کیا گیا تھا۔ جب اس قسم کی تبدیلی ایک خاص اے پہاڑی کا وعظ حضرت مسیح علیہ السلام کی ایک خاص تقریر ہے جو انجیل کی پہلی کتاب میں پانچویں، چھٹے اور ساتویں باب میں درج ہے۔ اس میں نہایت مؤثر انداز میں خدا پرستی اور اعلیٰ اخلاقیات کی تعلیم دی گئی ہے۔ راست بازی، رحم دلی، باہم صلح کرانا، صبر کرنا، حق کی روشنی پھیلانا، ناحق خون نہ کرنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، لوگوں کے حقوق ادا کرنا، عورت کی عصمت پر حملہ نہ کرنا، جھوٹ نہ بولنا، زیادتی کا جواب نرمی سے دینا، ریاو نمائش سے بچنا، مال کی حرص نہ کرنا، اور عیب جوئی سے بچنا۔ یہ اس کے چند خاص اجزاء ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page