عیسائیت
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
حد تک ہو چکی ہوگی اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ اس نہج پر سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں باآسانی تبدیلی ہو سکے۔ لیکن اس تبدیلی کے بغیر کتنی ہی سیاسی، اقتصادی بہتری اور میکانکی نوعیت کی تعمیر کیوں نہ کی جائے اس سے خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں ہوں گے۔‘‘ ہندوازم اس قسم کے مذہبی لوگوں میں دوسرا قابلِ ذکر گروہ جدید ہندو مفکرین کا ہے۔ سی۔ راجگو پال آچاری نے اسی موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے (Hinduism-Doctrine and Way of Life) اس کتاب میں انہوں نے دکھایا ہے کہ آج کی دنیا کچھ روحانی تہذیبی بنیادوں کی طالب ہے اور وہ اخلاق اور کلچر جس کی جڑیں ویدانیت میں اتری ہوئی ہیں، بلاشبہ اس ضرورت کو پوری کر سکتا ہے۔‘‘، صنعتی انقلاب نے جو مسائل پیدا کیے ہیں، عمل اور اخلاقی قدروں کے درمیان آج جو علیحدگی نظر آتی ہے، سوسائٹی کے خود غرض عناصر جس طرح قانون کے ذریعہ استحصال کی کوشش کر رہے ہیں اور سیاسی اور معاشی میدانوں میں اس کو ناجائز کامیابی کے لئے استعمال کرتے ہیں، متضاد مقاصد کے درمیان انسانی طاقت جس بری طرح ضائع ہو رہی ہے، ان تمام خرابیوں کا ذکر کرنے کے بعد وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا دنیا کو ایک ایسا مذہب پیش کیا جا سکتا ہے جو سائنس کا مخالف نہ ہو اور عملی زندگی اور ریاستی معاملات کو حق پرستی کی بنیاد پر تعمیر کر سکے اور اس کے بعد وہی کہتے ہیں کہ (Vedanta is the Answer) یعنی ویدانیت اس سوال کا جواب ہے۔‘‘ واضح لفظوں میں وہ لکھتے ہیں’’ دعویٰ یہ ہے کہ ایک اخلاقی کوڈ اور اقدار کا ایک نظام ہندو مفکرین نے مذہبی فلسفہ سے تیار کیا ہے جس کو ویدانیت کہا جاتا ہے، جو نہ صرف یہ کہ سائنس کے مطابق ہے بلکہ ایک بہتر اور مستحکم سماجی تنظیم کی نہایت عمدہ اور موزوں بنیاد بن سکتا ہے جس کی تمام دنیا کے بہترین لوگ تمنا رکھتے ہیں اور اس کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ ہندوازم موجودہ ترقی سماج کی ضرورتوں کو کس طرح پورا کر سکتا ہے، اس کی ایک مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’بھاگوت گیتا میں یہ بات نہایت واضح طریقہ پر بیان کر دی گئی ہے کہ آدمی کو چاہئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader