اسلام
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتھ جسم کی سی ہے۔ روح کے ظاہر ہونے کے لئے جسم کا ایک ہونا ضروری ہے۔ مگر کسی انسانی وجود میں اصل چیز اس کی روح ہوتی ہے، نہ کہ جسم۔ اگر یہ روح نہ ہو تو جسم خواہ کتنی ہی مکمل حالت میں موجود ہو، ہم اس سے انسان کا کام نہیں لے سکتے۔ اس طرح بہتر زندگی کی تعمیر کے سلسلے میں جو چیز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ انسان کی اپنی اصلاح ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو زندگی کی پوری اسکیم میں فیصلہ کن عنصر کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ موجود ہو تو دوسری تمام چیزیں ٹھیک ٹھیک کام کریں گی اور اگر یہ نہ ہو تو کوئی بھی خارجی نقشہ ہمارے مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔ زندگی کے اس اہم ترین سوال کا جواب اسلام کے اندر انتہائی مکمل اور صحیح شکل میں موجود ہے۔ اسلام سب سے پہلے یہ بتاتا ہے کہ یہ کائنات کوئی ال ٹپ نہیں ہے بلکہ اس کا ایک خدا ہے جو اپنی زبردست طاقت کے ذریعہ پوری دنیا پر فرماں روائی کر رہا ہے۔ اس طرح وہ انسان کے اندر ایک ایسی طاقت کا عقیدہ پیدا کرتا ہے جس کی پکڑ سے انسان اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا۔ اور نہ اس سے بھاگ کر کہیں جا سکتا۔ وہ زندگی کے بارے میں یہ تصور دیتا ہے کہ وہ دو مرحلوں میں بٹی ہوئی ہے اور موجودہ مرحلہ اگلے مرحلہ کی تیاری کے لئے ہے۔ ہم آج جو کچھ کریں گے، اس کا اچھا یا برا بدلہ اگلی زندگی میں پائیں گے۔ اس طرح آدمی کے اندر آئندہ زندگی میں کامیاب بننے کی طلب پیدا ہوتی ہے اور دنیا کی حرص جو تمام خرابیوں کی جڑ ہے، اس کا جذبہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ جب ٹرین سامنے کھڑی ہو تو کوئی شخص پلیٹ فارم کی پنچ پر جگہ حاصل کرنے کے لئے جھگڑا نہیں کر سکتا۔ اسی طرح جو شخص دنیا کی بے ثباتی اور اگلی زندگی کی اہمیت کو سمجھ جائے اس کے لئے ناممکن ہے کہ دنیوی منافع کے لئے لوگوں سے چھین جھپٹ کرے۔ آج چمبل کی وادی (ضلع آگرہ) میں 25 ہزار پولیس گھیرا ڈالے پڑی ہے، مگر ڈاکوؤں کا گروہ اس کے قابو میں نہیں آتا۔ اسلام فرشتوں کی ایک ایسی پولیس کا تصور دیتا ہے جو ہر انسان کے دونوں کندھوں پر بیٹھی ہوئی ہے۔ اور اس کے تمام اعمال کا ریکارڈ تیار کر رہی ہے جو مرنے کے بعد خدا کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ یہ خیال آدمی کو اپنے تمام کھلے اور چھپے معاملات میں چوکس کر دیتا ہے۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ مستقل طور پر ایسی پولیس کے پہرے میں ہے جس سے پیچھا چھڑانے کی کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader