اسلام
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ صرف اس لیے ہے کہ جو کچھ دوسروں کے پاس بگڑی ہوئی شکل میں ہے وہ اس کو صحیح اور با آر مشکل میں پیش کرتا ہے۔ خدا اور آخرت کا تصور دوسرے مذاہب میں موجود ہے، یہی اسلام کے حل کی اصل بنیاد ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ دوسرے مذاہب میں یہ حقیقت صدیوں کے غبار میں چھپ گئی تھی اور اسلام نے اس کو تمام ملاوٹوں سے صاف کرکے خالص شکل میں ہمارے سامنے رکھا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اسلام کی طرف دنیا کو ہم جو بلار ہے ہیں اس کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ اسلام کوئی نئی اور انوکھی چیز ہے جو ابھی تک کسی کو نہیں معلوم تھی۔ بلکہ یہ وہی ابدی حقیقت ہے جو ہمیشہ سے انسانوں کے پاس موجود رہی ہے۔ چوں کہ لوگوں نے اپنی غفلت سے اس کو مٹا دیا تھا یا اسے بدل ڈالا تھا۔ اس لیے خدا نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ اس کو دوبارہ اپنی صحیح اور مکمل صورت میں ہمارے پاس بھیجا ہے۔ انسان کو اپنی زندگی کی تنظیم کے سلسلے میں بہت سی چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ اس کے لئے ایک قانون کی ضرورت ہے، اس کے لئے ایک معاشی اور سیاسی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ اس کو شادی بیاہ کے ایک متعین طریقے کی ضرورت ہے۔ لباس، کھانا، پینا، اٹھنا بیٹھنا، ہر چیز میں اس کے لیے کچھ آداب و قواعد کی ضرورت ہے۔ حتی کہ یہ بھی اس کی ایک ضرورت ہے کہ اس کا ایک سماجی تہوار ہو جس میں لوگ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوں اور اپنی جائز تمنائیں پوری کریں۔ اس طرح کی اور بہت سی چھوٹی بڑی چیزیں ہیں جو زندگی گزارنے کے لئے لازمی ہیں اور ان کے متعلق بہر حال انسان کو ایک متعین شکل بنانا ضروری ہے۔ بلا شبہ یہ سب کچھ اسلام کے اندر موجود ہے اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں گفتگو کی جاسکتی ہے کہ اسلام کی بتائی ہوئی شکل دوسری مروجہ شکلوں کے مقابلہ میں کس طرح زیادہ جامع اور زیادہ مفید ہے۔ مگر یہاں مجھے ان تمام پہلوؤں پر بحث نہیں کرنی ہے جیسا کہ پچھلی گفتگو سے واضح ہو چکا ہے۔ زندگی میں ان چیزوں کی ضرورت زیادہ تر عملی پہلو سے ہے، نہ کہ حل مسئلہ کے پہلو سے۔ دوسرے لفظوں میں زندگی کے مختلف شعبوں کے بارہ میں ایک تفصیلی ڈھانچہ کا موجود ہونا بذاتِ خود زندگی کو بہتر نہیں بناتا۔ یہ سب چیزیں اگر چہ زندگی کے لئے ضروری ہیں مگر ان کی حیثیت روح کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader