منزل کی طرف
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
مدینے کے ایک باشندے ابو مسعود انصاری کا واقعہ ہے، وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے، اتنے میں ان کے پیچھے سے ایک آواز آئی اعلم ابا مسعود ا قدر عليك منك عليه (ابو سعود، یاد رکھو اس غلام کو جتنا اختیار ہے، تمہارا خدا اس سے زیادہ تمہارے اوپر اختیار رکھتا ہے) دیکھا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔ یہ فقرہ سنتے ہی ان کا حال بدل گیا۔ انھوں نے فوراً اپنا ہاتھ روک لیا اور بولے کہ اے خدا کے رسول، میں اس غلام کو خدا کی راہ میں آزاد کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرتے تو جہنم کی آگ تمہیں پکڑ لیتی (مسلم) اس طرح اسلام ایک ایسا نظریہ عطا کرتا ہے جس کے ذریعے آپ کسی بھی شخص کو کسی مقام پر ٹوک سکتے ہیں اور وہ خود اپنے فائدے کی خاطر مجبور ہوگا کہ اس کی تنبیہ پر غور کرے۔ جب کہ موجودہ نظام میں کسی کو بدعنوانی سے روکنے کے لیے صرف پولیس کے دفتر میں اس کی رپورٹ درج کرائی جاسکتی ہے، ایک ایسا دفتر جو رشوت لے کر اپنا ریکارڈ جلا سکتا ہے اور اگر عدالت میں بھی جانا ہوا تو ملزم کو خوب معلوم ہے کہ ایک قابل وکیل کو فیس ادا کرنے کی صلاحیت ہونا کسی بھی مقدمے کو جیتنے کی کافی ضمانت ہے۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ اوپر کی سطروں میں میں نے اسلام کے تصور زندگی کو اس حیثیت سے پیش کیا ہے کہ آج ہم جن مسائل میں گھیرے ہوئے ہیں، ان کو وہ کس طرح حل کرتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہی اس کی کل حیثیت ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کوئی فرضی نظریہ نہیں ہے جو مسائل پیش آنے کے بعد ضرورت کے طور پر گھڑ لیا گیا ہو۔ حل مسائل کی غرض سے ہم دنیا کو کوئی فلسفیانہ فریب نہیں دے رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ سوال کہ ”زندگی کے مسائل کا حل کیا ہے“ یہ بذات خود کوئی الگ سوال نہیں۔ بلکہ وہ اس بڑے سوال کا جزء ہے کہ ”زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے“۔ حقیقت سے مطابق ہونے ہی کا دوسرا نام مسائل کا حل ہوتا ہے۔ جس نظام فکر کو اپنانے سے زندگی کے مسائل حل ہو جائیں، یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ یہی نظام فکر کا ئنات کی اصل حقیقت ہے اور کسی نظام فکر کا اصل حقیقت ہونا خود یہ معنی رکھتا ہے کہ اس سے انسانیت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader