Urdu book · منزل کی طرف

خاتمہ

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

خاتمہ اس وقت میں نے جو کچھ عرض کیا ہے اس کا مقصد ذہنی طور پر آپ کو اس مقام تک پہنچانا ہے جہاں سے آپ اپنی منزل کو دیکھ سکیں اور ان سوالات کا جواب پالیں جو آپ کو اور ساری انسانیت کو گھیرے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اپنے لیے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ کو میری بات لازماً صحیح نظر آنی چاہئے۔ میں آپ کو اختلاف کا حق دیتا ہوں۔ مگر یاد رکھے کہ جب کسی معاملے میں آدمی کو اپنی رائے مختلف نظر آتی ہے تو ضروری نہیں کہ وہ اس کی حقیقی رائے ہو۔ اکثرائیں محض آدمی کے موروثی جذبات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ آدمی کہتا ہے کہ ”میرا خیال یہ ہے“- حالاں کہ وہ دراصل ماحول کا خیال ہوتا ہے جس کو وہ اپنا سمجھ کر دہرادیتاہے۔ عقیدے، رائیں اور تعلقات بیشتر حالات میں تاریخ اور ماحول کے اثر سے بنتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جنھوں نے فی الواقع اپنے خاندان اور اپنے گردو پیش سے اوپر اٹھ کر خالص عقلی غور وفکر کے نتیجہ میں کوئی عقیدہ اپنایا ہو، کوئی رائے قائم کی ہو یا کسی سے اپنے تعلقات جوڑے ہوں۔ اس لیے آج آپ جس عقیدے کو اپنا عقیدہ اور جس طریقے زندگی کو اپنا طریقِ زندگی کہتے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ واقعہ بھی ایسا ہی ہو۔ بہت ممکن ہے کہ ایک مخصوص خاندان میں پیدا ہونے کی وجہ سے یہ چیزیں آپ کے ساتھ چمٹ گئی ہوں۔ میں آپ کو یہی معلوم کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ آپ سوچئے کہ آپ نے جس عقیدہ کو اپنا رکھا ہے وہ فی الواقع آپ کی سوچی سمجھی راہ ہے یا محض باپ دادا کی پیروی میں آپ بغیر سوچے سمجھے اس پر چلے جا رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر آپ ان دونوں کے فرق کو سامنے رکھیں گے اور وراثتی جذبات اور ماحول کے تاثرات سے الگ ہو کر اپنی راہ ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے تو لازماً میری تائید کریں گے اور اس وقت آپ کو صاف نظر آئے گا کہ حقیقتاً انسان کی منزل کس طرف ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page