Urdu book · منزل کی طرف

آریہ سماج (پریاگ) نے مئی ۱۹۶۰ء کے تیسرے ہفتہ میں اپنی گولڈن جبلی منائی

Urdu book, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

آریہ سماج (پریاگ) نے مئی ۱۹۶۰ء کے تیسرے ہفتہ میں اپنی گولڈن جبلی منائی۔ اس سلسلہ میں ۲۲ مئی کو الہ آباد میں سرو دھرم سمین کا بھی ایک پروگرام ہوا جس میں مختلف مذاہب کے علماء نے شریک ہو کر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عنوان یہ تھا: "بنی نوع انسان کی بہبود کے لئے آپ ہی کا دھرم سرو دیوگی کیوں ہے؟" مندرجہ ذیل مضمون اس موقع پر پیش کرنے کے لئے آریہ سماج کی دعوت پر لکھا گیا۔ آج کے اس جلسے کا جو عنوان ہے وہ محض ایک عنوان نہیں ہے بلکہ یہ وقت کے دل کی دھڑکنیں ہیں۔ ہم ایک ایسے مسئلے پر سوچنے کے لئے جمع ہوئے ہیں جو ساری دنیا کو درپیش ہے اور جس پر ہر جگہ غور وفکر کیا جارہا ہے۔ یوں سمجھیئے کہ پوری انسانیت کی طرف سے ایک سوال کیا گیا ہے اور ہمیں اس سوال کا جواب دینا ہے۔ پچھلی چند صدیوں کی تاریخ مذہب کے خلاف انسان کی بغاوتی کی تاریخ ہے۔ قدیم ترین زمانے سے مذہب کو یہ حیثیت حاصل تھی کہ وہ فکر وعمل کے ہر میدان میں انسانی زندگی کی رہنمائی کرتا تھا۔ مگر صنعتی انقلاب اور سائنس کی ترقی کے بعد جب انسان تمدنی اعتبار سے ایک نئے دور میں داخل ہوا تو اسی کے ساتھ اس نے چاہا کہ ہر اس چیز سے علیحدگی اختیار کرلے جس کا تعلق ماضی سے ہو۔ چنانچہ اس نے مذہب کے پرانے راستے کو چھوڑ کر نئی خود ساختہ راہوں پر اپنا سفر شروع کردیا۔ گاڑی کی تبدیلی کے ساتھ اس نے یہ بھی ضروری سمجھا کہ اس کی سمت بھی نئی ہونی چاہئے۔ لیکن پچھلے سو برس کے تجربے نے اس خیال کی غلطی واضح کردی ہے۔ زندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے جتنی کوششیں کی گئیں وہ بری طرح ناکام ثابت ہوئیں۔ اور اب انسان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جائے۔ انسانیت کا بھٹکا ہوا قافلہ دوبارہ اپنی صحیح منزل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page