Urdu book · منزل کی طرف

منزل کی طرف

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

کی طرف واپس ہونے کے لئے بے چین ہے۔ مذہب جو ماضی میں انسان کا دستور العمل تھا وہ مستقبل میں پھر انسان کا دستور العمل بننے والا ہے۔ قانون کی ناکامی پچھلے سماج میں مذہب جو کام کر رہا تھا وہ یہ تھا کہ صدیوں کے دوران میں مختلف بزرگوں کی تعلیم و تلقین کی وجہ سے کچھ خاص تصورات لوگوں کے ذہنوں میں رچ بس گئے تھے اور ان کے خلاف سوچنا یا عمل کرنا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ مذہب کی منسوخی کے بعد جب یہ گرفت ڈھیلی ہو گئی تو اس کی جگہ لینے کے لئے اصلاحی قسم کے قوانین وجود میں آئے۔ دوسرے لفظوں میں خدا کی اطاعت گزاری کی جگہ قانون کی حکمرانی نے لے لی۔ قانون اس متعین ضابطے کو کہتے ہیں جس کو کسی سماج میں لازمی طور پر قابلِ تسلیم قرار دیا گیا ہو اور جس کی خلاف ورزی پر آدمی کو سزا دی جاسکتی ہو۔ اس قسم کے قوانین ہر ملک میں وسیع پیمانے پر بنائے گئے اور اس طرح گویا زندگی کے تمام پہلوؤں کے بارے میں ریاست کی طرف سے حکمایہ بتایا گیا کہ وہ صحیح ترین رویہ کیا ہے جسے آدمی کو اختیار کرنا چاہئے۔ مگر ان قوانین کا فائدہ صرف یہ ہوا کہ جو برائی پہلے سیدھے طریقے سے ہوتی تھی وہ ہیر پھیر کے ذریعہ ہونے لگی۔ قانون نے صرف برائی کی شکلوں کو بدلا ہے، اصل برائی کو روکنے میں وہ بالکل ناکام ثابت ہوا ہے۔ حکومت دیکھتی ہے کہ کاروباری لوگ چیزوں میں ملاوٹ کر رہے ہیں، ناجائز اسٹاک رکھتے ہیں اور مختلف طریقوں سے عام پبلک کو پریشان کرتے ہیں۔ اس کو روکنے کے لئے وہ ایک قانون بناتی ہے اور اس کے نفاذ کے لئے مارکیٹنگ انسپکٹروں کی ایک فوج مقرر کر دیتی ہے جو قانون کی دفعات لے کر ایک ایک دکان کو جانچنا شروع کر دیتے ہیں۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ دکان دار انھیں رشوت دے کر لوٹا دیتے ہیں۔ اب حکومت اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو حرکت میں لاتی ہے، مگر اس کا نتیجہ بھی صرف یہ نکلتا ہے کہ جو رشوت پہلے صرف مارکیٹنگ انسپکٹر لے رہے تھے اس میں ایک اور محکمہ کے لوگ حصہ دار بن | ایسا نہیں ہے کہ اس دوران میں مذہب کا بالکل خاتمہ ہو گیا ہو۔ زندگی کے دھارے کے نیچے وہ ہمیشہ باقی رہا اور آج بھی باقی ہے۔ البتہ زندگی کی سرگرمیوں میں پہلے جو مقام اسے حاصل تھا وہ بعد کو اسے حاصل نہیں رہا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page