Urdu book · مقصدِ حیات

مقصدِ حیات

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

علاقے میں ایک ہال نما بڑی بلڈنگ بنی ہوئی تھی۔ غالباً کسی راجہ نے یہ بلڈنگ بنائی تھی۔ یہ بلڈنگ ابھی تک بالکل درست حالت میں تھی، مگر وہاں ہم کو کوئی انسان نظر نہیں آیا۔ اس کے برعکس، ہم نے دیکھا کہ اُس بلڈنگ کے اندر اور اس کے باہر ہر طرف ہزاروں کی تعداد میں بندر موجود ہیں۔ وہ شور کر رہے تھے اور ہر طرف بے معنی اچھل کود کر رہے تھے۔ بندر کی یہ انوکھی صفت ہے کہ وہ ایک غیر مستحق مقام پر قبضہ کر کے، وہاں بے معنی قسم کی اچھل کود کرنے لگے۔ اس صورت حال کی بنا پر ہم لوگ بلڈنگ کے اندر نہ جا سکے، اُس کو صرف باہر سے دیکھ کر لوٹ آئے۔ میں وہاں کھڑا ہوا دیر تک اس منظر کو دیکھتا رہا۔ میں نے سوچا کہ ان قابض بندروں کو اس کا کوئی دھیان نہیں کہ یہ بلڈنگ کس نے بنائی ہے اور کس کام کے لیے بنائی ہے، اور یہ کہ یہ بندر جو وہاں بے معنی اچھل کود کر رہے ہیں اور طرح طرح کی آوازیں نکال رہے ہیں، اس کا کوئی تعلق بنانے والے کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page