Urdu book · مقصدِ حیات

زندگی کا مقصد

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

طور پر سامنے آجائے۔ اس کے بجائے جو ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مطالعے کے دوران سائنس داں کے سامنے ایک سراغ (clue) آتا ہے۔ اس سراغ پر غور کر کے وہ ایک ایسی حقیقت تک پہنچتا ہے جو پہلے اس کو معلوم نہ تھی ۔ اس دنیا میں ہر حقیقت سراغ کی سطح پر دریافت ہوتی ہے۔ اس دنیا میں سراغ ہی تمام حقیقتوں کی دریافت کی کنجی ہے۔ مثلاً سائنس میں اس کو بطور حقیقت مان لیا گیا ہے کہ تیرہ بلین سال پہلے بگ بینگ کا واقعہ پیش آیا۔ اسی طرح سائنس میں یہ مان لیا گیا ہے کہ زمین پر حیاتیاتی ارتقا کا واقعہ ہوا۔ اسی طرح سائنس میں یہ مان لیا گیا ہے کہ ہماری کائنات ایک پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) ہے، وغیرہ۔ اس قسم کی حقیقتیں جو آج مسلّم حقیقت بن چکی ہیں وہ اس طرح حقیقت نہیں بنیں کہ انسان نے اس کو مشاہداتی سطح پر دیکھ لیا۔ اس کے بجائے جو کچھ ہوا وہ صرف یہ تھا کہ ایک سراغ انسان کے علم میں آیا۔ پھر اس سراغ پر غور کر کے انسانی علم ایک بڑی حقیقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page