Urdu book · مقصدِ حیات

زندگی کا مقصد

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

تک پہنچا۔ یہ بڑی حقیقت اگرچہ دکھائی نہیں دے رہی تھی مگر وہ موجود تھی۔ اس کی موجودگی کو بطور ایک واقعہ کے تسلیم کر لیا گیا۔ اگر چہ اس سلسلے میں سُراغ کے سوا کوئی اور چیز انسان کے مشاہدے میں نہیں آئی تھی۔ یہی معاملہ موت کے بعد زندگی کا یا اگلے دَورِ حیات کا ہے۔ اگلے دَورِ حیات کے بارے میں بھی واضح سُراغ (clue) موجود ہیں۔ سُراغ پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے تو وہ ہمیں اس یقین تک پہنچاتے ہیں کہ موت کے بعد بھی زندگی ہے۔ موت کے بعد بھی اِسی طرح ایک اور مرحلۂ حیات ہے جو لازمی طور پر ہر ایک کے سامنے پیش آئے گا۔ وہ سُراغ کیا ہے۔ مثلاً انسان کا جسم بے شمار خلیوں (cells) پر مبنی ہے۔ یہ خلیے ہر وقت ٹوٹتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارا نظامِ ہضم یہ کام کرتا ہے کہ جو کچھ ہم کھاتے ہیں وہ خلیوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ہمارا نظامِ ہضم گو یا خلیہ ساز فیکٹری ہے۔ اس نظام کے تحت یہ ہوتا ہے کہ عملاً تقریباً ہر دس سال میں ہمارا پورا جسم بدل

ar-15 (p.36)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page