زندگی کا مقصد
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
نتیجے تک پہنچتا ہے کہ موجودہ مرحلہ حیات چوں کہ اپنی مدت کے اعتبار سے نہایت ناکافی ہے اس لیے بعد کے مرحلہ حیات میں عدل کے تقاضے کی تکمیل ہو۔ بعد کے مرحلہ حیات میں ہر انسان کو اس کے کیے کے مطابق، جزا یا سزا ملے۔ اسی طرح اس معاملے کا ایک سراغ یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر معیاری دنیا (perfect world) چاہتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا کی محدودیت (limitations) کی بنا پر یہاں مطلوب معیاری دنیا بن نہیں پاتی۔ اس سراغ پر غور کرتے ہوئے انسانی ذہن اس دریافت تک پہنچتا ہے کہ جو معیاری دنیا قبل از موت مرحلہ حیات میں محدود حالات کی بنا پر حاصل نہ ہوسکی وہ بعد از موت مرحلہ حیات میں اپنی مطلوب معیاری صورت میں حاصل ہوگی۔ اسی طرح اس معاملے میں ایک سراغ یہ ہے کہ انسان استثنائی طور پر ایک ایسی مخلوق ہے جو کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ کسی بھی دوسرے حیوان یا غیر حیوان کے اندر کل کا تصور موجود نہیں۔ اس سراغ کو لے کر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader