Urdu book · مقصدِ حیات

زندگی کا مقصد

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

جاتا ہے۔ نئے خلیوں کے ساتھ مکمل طور پر ایک نیا جسم وجود میں آجاتا ہے۔ گویا کہ ہمارے جسم پر بار بار ’موت‘ طاری ہوتی رہتی ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کا ذہنی وجود نہیں مرا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ذہنی وجود ہی انسان کا اصل وجود ہے۔ یہ ذہنی وجود بظاہر جسمانی موت کے باوجود یکساں طور پر باقی رہتا ہے۔ یہ ایک سراغ ہے جو بتاتا ہے کہ انسان اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ابدی مخلوق ہے۔ اس کے ابدی وجود کا تھوڑا سا حصہ قبل از موت مرحلہ حیات میں ہے، اور اس کا بقیہ پورا حصہ بعد از موت مرحلہ حیات میں۔ اسی طرح اس معاملے کا ایک سراغ یہ ہے کہ انسان کے اندر استثنائی طور پر عدل (justice) کا تصور پایا جاتا ہے۔ انسان اپنے فطری ذہن کے تحت، یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عدل قائم ہو۔ یعنی اچھا عمل کرنے والوں کو اچھا انجام ملے اور بُرا عمل کرنے والوں کو بُرا انجام ملے۔ اس سرغ کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو انسانی ذہن اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page