معرفت الہی
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ کسی انسان کے اندر اِس قسم کے شعور کا پیدا ہونا، خدا کے ساتھ اس کی صحیح نسبت کا قائم ہو جانا ہے۔ جب کسی انسان کو یہ نسبت حاصل ہو جائے تو اس کے بعد وہ مسلسل طور پر خدائی فیضان (divine inspiration) پانے لگتا ہے۔ ایسے انسان کے اندر معرفتِ رب کا عمل (process) جاری ہو جاتا ہے۔ اگر آدمی اپنی طرف سے کوئی منفی سبب پیدا نہ کرے تو معرفت کا یہ عمل اس کے اندر برابر جاری رہے گا۔ اس کی معرفت مسلسل ترقی کرتی رہے گی، یہاں تک کہ وہ اپنے حدِ کمال کو پہنچ جائے۔ معرفت اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک خدائی عطیہ (divine gift) ہے۔ دنیا میں جس انسان کو معرفت کا عطیہ ملا، وہی وہ انسان ہے جو آخرت میں جنت کے عطیہ کا مستحق قرار پائے گا۔ معرفت گویا کہ کسی انسان کے لیے خدا کا دنیوی انعام ہے، اور جنت کسی انسان کے لیے خدا کا اُخروی انعام۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت سچائی کی سیٹ (54:55) پر ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ جو چیز کسی انسان کو جنت کے لیے غیر مستحق بناتی ہے، وہ کذب (جھوٹ) ہے، کذب جلی بھی اور کذبِ حقّی بھی۔ جو آدمی اپنے آپ کو ہر قسم کے کذب سے بچائے، وہی وہ انسان ہے جو جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے گا۔ معرفت آدمی کو سچا انسان بناتی ہے اور سچائی انسان کو جنت تک پہنچانے کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ توسم ذریعہ معرفت قرآن میں ربانی انسان کی ایک صفت توسم (15:75) بتائی گئی ہے۔ توسم کا مطلب تفرّس ہے، یعنی ظاہری علامت کے ذریعے کسی داخلی صفت کو پہچاننا۔ صاحبِ توسم آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ چیزوں سے سبق لے سکے، وہ مادی تجربات کے دوران روحانی غذا حاصل کر سکے۔ توسم کی یہ صلاحیت معرفت کے حصول کے لیے بے حد ضروری ہے۔ جس آدمی کے اندر توسم کی صلاحیت نہ ہو، وہ یقیناً معرفت سے بھی محروم رہے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader