Urdu book · معرفت الہی

معرفت الہی

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

آسٹریلیا کے عالمی تعلیمی ادارہ(Australian Education International) کی طرف سے 2010 میں 60 صفحے کا ایک میگزین شائع ہوا۔ اس کے ایک صفحے پر پوری دنیا کا نقشہ (world map) بڑے سائز میں چھپا ہوا ہے۔ اس نقشے میں ایک طرف سفید رنگ میں انڈیا ہے، اور دوسری طرف دس ہزار میل کے فاصلے پر ہرے رنگ میں آسٹریلیا۔ ہندوستانی نقشے کے اوپر ہندوستانی نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں— تم یہاں ہو (You are here)، اس کے بعد آسٹریلیا کے نقشے پر لکھا ہوا ہے کہ — تمھارا مستقبل یہاں ہے (Your _future is here) آپ نے اس نقشے کو دیکھا۔ اس کے بعد اچانک آپ کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ انسان آج موت سے پہلے کی دنیا میں ہے، لیکن اس کا ابدی مستقبل موت کے بعد کی دنیا میں ہے۔ اپنا مستقبل تلاش کرنے کی جگہ موجودہ دنیا نہیں ہے، بلکہ وہ بعد کو آنے والی آخرت کی ابدی دنیا ہے۔ اسی انتقال فکر (intellectual shift) کا نام تو سم ہے، یعنی مادی واقعات سے روحانی سبق لینا، مادی واقعات کو عارفانہ تجربے میں تبدیل کرنا : To convert material events into spiritual experience. اس تو سم کا سامان ہر چیز میں موجود ہوتا ہے، کوئی بھی چیز اس سے خالی نہیں۔ اگر آدمی کا ذہن (mind) بیدار ہو تو وہ ہر چیز میں توسم کے ذریعے معرفت کی غذا (spiritual food) حاصل کرتا رہے گا۔ مبنی بر عقل معرفت معرفت کا ذریعہ، قرآن کے الفاظ میں، تفکر اور تدبر (3:191) ہے۔ معرفت کا حصول غور و فکر (contemplation) کے ذریعے ہوتا ہے، اور غور و فکر کا تعلق تمام تر عقل یا دماغ سے ہے۔ انسان کے جسم میں صرف دماغ یا برین (brain) وہ حصہ ہے جس کے اندر سوچنے کا عمل (thinking process) جاری ہوتا ہے۔ اِسی سوچنے کے عمل کے ذریعے وہ چیز حاصل ہوتی ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page