Urdu book · معرفت الہی

معرفت الہی

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

کے نتیجے میں ایسا ہوتا ہے کہ اس کے سینے میں اللہ کے لیے محبت کا سمندر موج زن ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام حب شدید ہے۔ محبت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک دریافت کا نتیجہ ہے، وہ محض ایک حکم کی تعمیل نہیں۔ انسان جب اپنے آپ کو احسن تقویم (4 : 95) کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے، جب وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ نے اس کے ساتھ تکریم (70 : 17) کا معاملہ کیا ہے، جب وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ نے اس کے لیے زمین اور آسمان کو مسخر کر دیا ہے، جب وہ ان بے شمار نعمتوں کو دریافت کرتا ہے جن کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے، جب وہ اللہ کے اس احسان کو دریافت کرتا ہے کہ اُس نے پیغمبر کے ذریعے اس کی ہدایت کا انتظام فرمایا، جب کہ وہ اس سے پوری طرح بے خبر تھا، جب وہ کائناتی پیمانے پر اللہ کی تخلیق اور اس کی ربوبیت کو دریافت کرتا ہے تو اس کے دل میں شکر کا بے پناہ جذبہ امڈ پڑتا ہے۔ یہی شکرِ الہی محبت الہی کا منبع ہے۔ اسی سے انسان کے اندر وہ گہرا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کو قرآن میں حب شدید کہا گیا ہے۔ اصل بات یہ نہیں ہے کہ محبت کرو، اصل بات یہ ہے کہ اللہ کو اتنے بڑے منعم کی حیثیت سے دریافت کرو کہ تمھارے اندر اللہ کے لیے حب شدید پیدا ہو جائے۔ خالق کی بے پناہ عظمت قرآن کی سورہ الرعد میں یہ آیت آئی ہے: اللہ الذی رفع السماوات بغیر عمد ترونها (2 : 13) یعنی اللہ ہے جس نے آسمان کو بلند کیا بغیر ایسے ستون کے جو تمھیں نظر آئیں۔ اس آیت میں ایک عظیم کا ئناتی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت اتنی زیادہ عظیم ہے کہ اس کو سوچ کر آدمی کا دل دہل اٹھے اور اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ قدیم روایتی زمانے میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ چیزیں کسی مادی سہارے پر قائم ہیں۔ مثلاً ستارے کسی آسمانی چھت سے لٹکائے گئے ہیں، اور زمین کسی مادی سہارے پر قائم ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں جب دوربین ایجاد ہوئی اور خلا (space) کا دوربین مشاہدہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ساری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page