معرفت الہی
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات ایک خلا میں ہے۔ کہکشائیں، شمسی نظام، ستارے اور سیارے، سب ایک اتھاہ خلا میں کسی سہارے کے بغیر گھوم رہے ہیں۔ یہ سارا معاملہ اتنے وسیع خلا میں ہورہا ہے کہ انتہائی طاقت ور دوربینوں کے ذریعے بھی اُن کی حدوں کو دیکھا نہیں جاسکتا۔ کسی سہارے کے بغیر قائم یہ کائناتی نظام اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کا صرف قیاس کیا جاسکتا ہے۔ وسیع کائنات کے بارے میں جو اندازے کئے گئے ہیں اور اس کے جو فوٹو حاصل کئے گئے ہیں، وہ اتنے زیادہ بڑے ہیں کہ اُن کے فاصلوں کو عام اعداد کے ذریعے بیان نہیں کیا جاسکتا، چناں چہ اُن کو صرف سالِ نور (light years) کی اصطلاح میں بیان کیا جاتا ہے: Light year: A unit of astronomical distance, equal to the distance that light travels in one year, approximately 6,000,000,000,000 miles. لامحدود خلا میں انتہائی وسیع کائنات کا معلق ہونا، خالق کی عظمت (glory) کا ناقابل بیان ثبوت ہے۔ جنتِ قریب، جنتِ بعید قرآن کی سورہ القمر میں اہلِ جنت کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: اِنّ المتقين في جنات ونہر، في مقعد صدق عند مليك مقتدر (54-55) یعنی بے شک اللہ سے ڈرنے والے لوگ باغوں میں اور نہروں میں ہوں گے، بیٹھے ہوئے سچائی کی سیٹ پر، قدرت والے بادشاہ کے پاس۔ قرآن کی اِس آیت اور دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے دو درجے ہیں— ایک، جنتِ قریب، اور دوسری، جنتِ بعید۔ جنتِ قریب، خدا کے پڑوس میں ہوگی۔ یہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جو اعلیٰ معرفت والے لوگ ہوں گے۔ جنتِ بعید سے مراد خدا کے پڑوس سے دور کی جنت ہے۔ اس جنت میں عام اہلِ ایمان کو جگہ ملے گی۔ عام اہلِ ایمان بھی جنت میں جگہ پائیں گے، لیکن ان کو جنتِ بعید میں جگہ ملے گی، نہ کہ جنتِ قریب میں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader