معرفت الہی
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے اندر فرقان (8:29) کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے، یعنی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کر کے دیکھنا۔ اس کے اندر مستقبل بینی کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی فکر کے اندر وہ گہرائی پیدا ہو جاتی ہے، جب کہ آدمی چیزوں کے اضافی پہلو کو دیکھ سکے۔ یہی وہ صفت ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے: A wise man is one who knows the relative value of things. معرفت کسی آدمی کے اندر زہد کی صفت پیدا کر دیتی ہے، یعنی دنیا سے بے رغبتی۔ یہی وہ انسان ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے : ما زهد عبد فى الدنيا إلا أنبت الله الحكمة فى قلبه، وأنطق بها لسانه، وبصره عيب الدنيا و داءها ودواءها، وأخرجه منها سالماً إلى دار السلام (الفردوس بمأثور الخطاب، رقم الحديث 6214): ، یعنی جو بندہ دنیا سے بے رغبت ہو جاتا ہے تو اللہ اس کے دل میں حکمت اگا دیتا ہے اور اس کی زبان پر حکمت کو جاری کر دیتا ہے، اس کو وہ دنیا کے عیب دکھا دیتا ہے، اس کو وہ دنیا کی بیماری اور اس کے علاج سے باخبر کر دیتا ہے، اور اس کو وہ دار السلام (جنت) تک سلامتی کے ساتھ پہنچا دیتا ہے۔ منفی سوچ نہیں حدیث میں آیا ہے کہ تم إمعة نہ بنو، یعنی تم یہ نہ کہو کہ دوسرا شخص تمھارے ساتھ جو سلوک کرے گا، وہی سلوک تم اس کے ساتھ کرو گے۔ اس کے بجائے تمھارا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص تمھارے ساتھ برا سلوک کرے گا، تب بھی تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو گے (لا تكونوا إمعة، تقولون: إن أحسن الناس أحسنا، وإن ظلمونا ظلمنا، ولكن وطنوا أنفسكم إن أحسن الناس أن تُحسنوا، وإن أساؤا فلا تظلموا ۔ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2007)۔ معرفت صرف اُن عورتوں اور مردوں کو ملتی ہے جو ہمیشہ مثبت سوچ (positive thinking) کے ساتھ رہنے والے ہوں۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کے لیے بھی موافق حالات کا ملنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں مثبت سوچ پر قائم رہنے کا فارمولا (formula) صرف ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader