Urdu book · معرفت الہی

معرفت الہی

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

کی نسبت خدا سے قائم نہ ہو، اُس کا حال یہ ہوگا کہ وہ معرفت کا لفظ بولے گا، لیکن وہ معرفت سے کلی طور پر بے خبر رہے گا۔ حقیقی تواضع کی پہچان یہ ہے کہ آدمى کا حال یہ ہوجائے کہ تعریف اُس کو خوش نہ کرے اور تنقید سے اس کو ناگواری نہ ہو۔ جس آدمی کے اندر حقیقی تواضع نہ ہو، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ میں بھی کچھ ہوں۔ اس قسم کا احساس اس کے لیے خدا سے تعلق قائم کرنے میں حتمی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سوکھی ہوئی زمین میں پانی ڈالا جائے تو وہ اس کو پوری طرح جذب (absorb) کرلے گی۔ اس کے برعکس، گیلی زمین کا ایک قطرہ بھی جذب نہیں کرے گی۔ متواضع انسان (modest man) اس قابل ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آنے والے معرفت کے فیضان (inspiration) کو پوری طرح قبول کرے۔ اس کے برعکس، جس آدمی کے اندر کامل تواضع نہ ہو، اس کا حال یہ ہو جائے گا کہ وہ معرفت کے فیضان (inspiration) کو قبول کرنے کے لیے اس کا آخذ (recipient) نہ رہے گا، وہ معرفت کی بارش کے ماحول میں بھی معرفت سے محروم رہے گا۔ عارفانہ شخصیت حدیث میں آیا ہے کہ : اتقوا فراسة المومن، فإنه ينظر بنور الله (الترمذی، رقم الحدیث 3127 :) یعنی مومن کی فراست سے بچو، کیوں کہ مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اس حدیث رسول میں فراستِ مومن سے مراد فراستِ عارف (wisdom of a realized person) ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس شخص کو معرفت حاصل ہوجائے، وہ ایک بے پناہ شخص بن جاتا ہے۔ وہ خدا کی روشنی میں چلنے لگتا ہے، اور خدا کی روشنی کو بجھانے کی طاقت کسی کے اندر بھی نہیں۔ جس آدمی کو معرفت کے درجے میں ایمان حاصل ہوجائے، وہ انتہائی حد تک ایک باشعور انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر وہ صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے جس کو ذہنی بیداری (intellectual awakening) کہا جاتا ہے۔ وہ ایک نفس مطمئنہ (complex-free soul) بن جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page