Urdu book · معرفت الہی

معرفت الہی

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا جائے تو یہ یقین کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا کہ اس قسم کا ایک اور برتر استثنا یہاں موجود ہے۔ یہ معلوم واقعہ کے ذریعے نامعلوم واقعہ کو دریافت کرنا ہے۔ یہ استدلال پورے معنوں میں ایک علمی اور منطقی استدلال کی حیثیت رکھتا ہے۔ رینے ڈیکارٹ (René Descartes) فرانس کا مشہور فلسفی ہے۔ وہ 1596 میں پیدا ہوا، اور 1650ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے کہا تھا کہ۔ میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں: I think, therefore, I am. مذکورہ فرانسیسی فلسفی صرف نصف صداقت (half truth) تک پہنچا۔ اس نے اپنے آپ کو دریافت کیا، لیکن وہ اپنے خالق کو دریافت نہ کرسکا۔ اگر وہ مزید غور وفکر کرتا تو اپنے وجود (existence) کی صورت میں، وہ خدا کے وجود کو دریافت کرلیتا۔ اس کا اپنا وجود اس کے خدا کے وجود کا ثبوت بن جاتا۔ وہ مخلوق کے ذریعے خالق کو دریافت کرلیتا۔ وہ پکار اٹھتا کہ۔ میں ہوں، اس لیے خدا ہے: I am, therefore, God is. سب سے بڑا امتحان جان اسٹوارت مل (John Stuart Mill) انیسویں صدی عیسوی کا ایک برطانی فلسفی ہے۔ وہ 1806 میں پیدا ہوا، اور 1873 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کی کتاب آٹو بائیوگرافی 1873(Autobiography) میں شائع ہوئی ۔ اس کتاب میں مصنف نے لکھا ہے کہ پہلے میں روایتی طور پر خدا کو مانتا تھا۔ لیکن میرے باپ (James Mill) نے اس سلسلے میں مجھ سے ایک بات کہی، اُس کے بعد میں نے خدا کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا۔ میرے باپ نے کہا کہ۔ اگر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا: If God created man, who created God. خدا کی معرفت کے بارے میں بلاشبہ یہ سب سے بڑا امتحان ہے۔ انسان کا ذہن ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page