Urdu book · معرفت الہی

اعلیٰ معرفت

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

بے خبری کو جان لینا، علم کا نقطۂ آغاز (starting point) ہے۔ آدمی جب یہ جان لے کہ میں نہیں جانتا تو اس کے اندر جاننے کی اسپرت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ اسپرت آخر کار اس کو علم تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے، وہ اس کے نہ جاننے کو جاننا بنا دیتی ہے۔ یہی معاملہ معرفت کا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے یہ دریافت کرے کہ وہ معرفت سے خالی ہے۔ اس کے بعد اس کے اندر تلاش معرفت کا جذبہ پیدا ہوگا، جو آخر کار اس کو معرفت تک پہنچادے گا۔ علم کا آغاز روحِ تجسس (spirit of enquiry) ہے۔ یہی اسپرت معرفت کے لیے بھی ضروری ہے۔ آدمی کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ معرفت کے بغیر وہ اندھیرے میں ہے۔ معرفت کے ساتھ جینا روشنی میں جینا ہے، اور معرفت کے بغیر جینا اندھیرے میں جینا۔ معرفت کے بغیر انسان کے لیے صرف ناکامی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ معرفت آدمی کو برتر سطح پر جینے والا بناتی ہے ۔ معرفت والا آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقتوں کو بے آمیز (as it is) انداز میں سمجھ سکے ۔ معرفت آدمی کو فرشتوں کا ہم نشیں بناتی ہے۔ معرفت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اُس کو خدا کا فیضان (inspiration) ملنے لگتا ہے۔ معرفت کسی انسان کو انسانِ کامل بناتی ہے۔ معرفت دنیا میں ہدایت کا ذریعہ ہے اور آخرت میں جنت کا ذریعہ۔ معرفت کسی انسان کے لیے اس کے سفرِ حیات کا صحیح آغاز ہے۔ معرفت کسی انسان کو بے شعور زندگی سے نکال کر با شعور زندگی کی طرف لے جانے کا ذریعہ ہے۔ معرفت کسی آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ بے خدا طرزِ زندگی سے نکل کر با خدا طرزِ زندگی کو اختیار کر سکے۔ معرفت کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اعلی امکانات (potentials) کو دریافت کرے اور خدا کی مدد سے اس کو واقعہ (actual) بنائے ۔ معرفت تکمیلِ علم کا ذریعہ ہے، اور تکمیل حیات کا ذریعہ بھی۔ معرفت کی زمین ایک پودے کے اگنے کے لیے زرخیز زمین (fertile land) درکار ہوتی ہے۔ صرف زرخیز زمین ہی میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہاں ایک پودا اُگے اور پھر بڑھتے بڑھتے وہ ایک ہرا بھرا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page