اعلیٰ معرفت
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات کی ہر چیز معرفت کو مجسم کئے ہوئے ہے۔ بقیہ کائنات میں جو چیز فطرت کے قانون کے تحت ظاہر ہوئی ہے، وہی انسان کی سطح پر شعوری معرفت کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ انسان اگر غور کرے تو کائنات کی ہر چیز اس کو معرفت کا سبق دیتی ہوئی نظر آئے گی۔ سورج تمثیل کی زبان میں بتا رہا ہے کہ معرفت وہی معرفت ہے جو انسان کے وجود کو اندر سے باہر تک روشن کردے۔ بہتا ہوا دریا انسان کو بتا رہا ہے کہ معرفت کو اس طرح حاصل کرو کہ وہ تمھاری روح میں چشمہ بن کر جاری ہوجائے۔ درخت کی ہری بھری شاخیں جب ہوا سے ہلتی ہیں تو وہ انسان کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ معرفت کو اس طرح حاصل کرو کہ وہ تمھارے لیے ایک پراُہتزاز تجربہ (thrilling experience) بن جائے۔ چڑیاں جب چہچہاتی ہیں تو وہ انسان سے کہتی ہیں کہ خدا کے کمالات اس طرح دریافت کرو کہ تمھاری زبان پر حمد خداوندی کا نغمہ جاری ہوجائے۔ پہاڑ کی بلندی خاموش زبان میں یہ پیغام دے رہی ہے کہ خدا کو اس کی اعلیٰ عظمتوں کے ساتھ دریافت کرو، وغیرہ۔ یہی حال پوری کائنات کا ہے۔ کائنات کی ہر چیز فطرت کی زبان میں معرفت کا پیغام دے رہی ہے۔ گویا کہ کائنات معرفت کی ایک عظیم لائبریری ہے۔ جس طرح ایک اسکالر لائبریری میں داخل ہوکر کتابوں کے ذریعے معلومات اخذ کرتا ہے، اسی طرح ایک سچا انسان کائنات کی خدائی لائبریری سے معرفت کی فکری غذا (intellectual food) حاصل کرتا ہے۔ کائنات کی لائبریری انسان کے لیے معرفت کا ایک لامحدود خزانہ ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ معرفت کے انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں درخت کا ہر پتہ اپنے اندر معرفت کا دفتر سموئے ہوئے ہے۔ اسی بات کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے—دانش مند انسان کی نظر میں سرسبز درختوں کا ہر پتہ معرفت خداوندی کا ایک دفتر لئے ہوئے ہے : برگ درختان سبز، در نظر ہوشیار ہر ورقے دفتری است، معرفتِ کردگار معرفت کا آغاز ایک عربی مثل ہے : لا أدری، نصف العلم ( میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے ) یعنی اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader