اعلیٰ معرفت
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
ہاؤس سے قائم ہو تو اچانک وہ روشن ہو جاتی ہے۔ یہ مادی واقعہ اُس روحانی حقیقت کی مثال ہے جس کو معرفت (realization) کہا جاتا ہے۔ خدا اور بندے کے درمیان اگر ربط قائم نہ ہو تو اس کا وجود معرفت سے بے بہرہ رہے گا، لیکن جب خدا اور بندے کے درمیان ربط قائم ہو جائے تو اس کے بعد اچانک ایسا ہوتا ہے کہ بندے کا دل و دماغ معرفت کی روشنی سے منور ہو جاتا ہے۔ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan of God) کے مطابق، انسان کی حیثیت اس دنیا میں پانے والے (taker) کی ہے۔ اس کے مقابلے میں، خدا کی حیثیت دینے والے (giver) کی ہے۔ انسان ہر اعتبار سے، ایک محتاج مخلوق ہے۔ وہ اپنی کسی بھی حاجت کو خود سے پورا نہیں کر سکتا۔ یہ صرف خدا ہے جو اس کی تمام حاجتوں کو پورا کرنے والا ہے۔ انسانی شخصیت کا یہ احتیا طلی پہلو انسان کو مسلسل طور پر فقدان کے احساس میں مبتلا رکھتا ہے۔ یہ احساس فقدان انسانی شخصیت کا ایک ایسا لازمی حصہ ہے جو کبھی اُس سے جدا نہیں ہوتا۔ جو آدمی شعوری طور پر اس فقدان سے باخبر ہو جائے، وہ متلاشی (seeker) بن جاتا ہے۔ اور جو آدمی اپنی ذات کے اس فقدان سے باخبر نہ ہو، وہ ہمیشہ محرومی کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔ خدا کی معرفت انسان کی اِس تخلیقی کمی کا جواب ہے۔ خدا کی معرفت کے سوا کوئی اور چیز انسان کی اس کمی کو پورا کرنے والی نہیں۔ جس طرح بلب پاور ہاؤس سے کنکشن کے بغیر روشن نہیں ہوتا، اسی طرح معرفت کے بغیر کسی انسان کی زندگی ایک بے نور زندگی ہوتی ہے، کوئی اور چیز اس کی شخصیت کو منور کرنے والی نہیں۔ ارتقا پذیر معرفت ایک مغربی مبصر نے لکھا ہے کہ ـــ ہر دن صبح کو جب سورج کی پہلی کرن تمھارے کمرے میں داخل ہو تو تم اچھل کر بستر سے اٹھو اور کہو کہ ـــ ایک اور نئی شان دار صبح : Wonderful, what a new bright sun!

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader