Urdu book · معرفت الہی

اعلیٰ معرفت

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا جو سورج کا خالق ہے، اس کی معرفت بلاشبہ سورج سے بے شمار گنا زیادہ ہے۔ جس انسان کو خدا کی دریافت ہو جائے، وہ ہر صبح و شام خدا کی نئی تجلی کو دریافت کرے گا، اس کی معرفتِ خدا ربانی تجلیات کا ایک لامناہی سفر بن جائے گی۔ معرفت پتھر کی طرح کوئی جامد چیز نہیں ہے، معرفت درخت کی مانند ایک نمو پذیر چیز ہے۔ ایک چھوٹا سا بیج بڑھتے بڑھتے ایک سر سبز درخت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ معرفت کا بھی ہے۔ معرفت کا آغاز اقرارِ ایمان سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ یہ اقرارِ ایمان ترقی کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ معرفت کا ایک ہرا بھرا درخت، بلکہ معرفت کا ایک پورا باغ بن جاتا ہے۔ معرفت کے ارتقا کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے، آدمی کی موت سے پہلے وہ ختم نہیں ہوتا۔ معرفت، خدا کے آلاء (wonders of God) کی دریافت کا نام ہے۔ خدا کے آلاء بے شمار ہیں، اس لیے خدا کی معرفت بھی ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سفر ہے۔ ہمیشہ نئی نئی دریافتوں کے ذریعہ یہ سفر مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ موت اس سفر کا خاتمہ نہیں۔ موت کے بعد اہل ایمان کے لیے معرفت کا سفر مزید اضافے کے ساتھ جاری رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ جنت کے لیے سب سے زیادہ لذیذ تجربہ یہی ہوگا کہ وہ معرفت کے باغوں میں جئیں، وہ معرفت کی ہواؤں میں سانس لیتے رہیں۔ یہی بلاشبہ جنت کا سب سے زیادہ لذیذ عطیہ ہوگا۔ وجد اور معرفت کا فرق وجد (ecstasy) اور معرفت (realization) دونوں بظاہر مشابہ (similar) الفاظ ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے، دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ معرفت ایک اعلیٰ اسلامی صفت ہے، مگر وجد کا اسلام سے کوئی لازمی تعلق نہیں۔ وجد کا تجربہ کسی بھی شخص کو ہوسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وجد کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ رقص و سرود جیسی چیزیں بھی آدمی کے اندر وجد پیدا کرنے کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page