Urdu book · معرفت الہی

اعلیٰ معرفت

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

معرفت کی یہی ترتیب عام انسان کے لیے بھی ہے اور یہی ترتیب پیغمبر کے لیے بھی۔ عربی زبان کا ایک مقولہ ہے: لا أدري، نصف العلم (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے) آدمی کو پہلے اپنی لاعلمی کو دریافت کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد اس کے اندر تلاش کا وہ جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کو روحِ تجسس (spirit of enquiry) کہا جاتا ہے۔ لاعلمی کا یہ جذبہ جتنا زیادہ شدید ہوگا، اتنی ہی زیادہ بڑی معرفت آدمی کو حاصل ہوگی۔ یہ ایک ایسی فطری حقیقت ہے جس میں کوئی استثنا نہیں۔ معرفت کوئی وراثتی چیز نہیں جو باپ سے بیٹے کو اور بیٹے سے پوتے کو مل جائے، معرفت انتہائی حد تک ایک ذاتی نوعیت کی چیز ہے۔ خدا کی معرفت کسی کو ملے گی تو وہ صرف ذاتی کوشش سے ملے گی، ذاتی کوشش کے بغیر ہرگز کسی کو خدا کی معرفت ملنے والی نہیں۔ ذاتی کوشش کے بغیر جو چیز کسی آدمی کو ملے گی، وہ ایک رسمی عقیدہ ہوگا، نہ کہ زندہ معرفت۔ معرفت کا تعلق آدمی کی پوری شخصیت سے ہے۔ معرفت ابتدا ء کسی شخص کو ذہن کی سطح پر حاصل ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ فطری عمل کے تحت اس کی پوری شخصیت کے اندر سرایت کر جاتی ہے۔ معرفت کا حصول کسی آدمی کے لیے اس بات کو یقینی بنا دیتا ہے کہ اس کی پوری شخصیت معرفت کے رنگ میں رنگ جائے، اس کی زندگی کا کوئی پہلو اس کے اثر سے خالی نہ رہے۔ معرفت کا سفر دراصل دریافت (discovery) کا سفر ہے۔ یہ دریافت ساری عمر جاری رہتی ہے۔ جو آدمی یہ سمجھے کہ اس نے کامل معرفت حاصل کرلی، اس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس نے معرفت کو سرے سے دریافت (discover) ہی نہیں کیا۔ معرفت کی قیمت ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ مجھ کو بتائیے کہ میں خدا کی معرفت کیسے حاصل کروں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کی شادی ہوگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں، میرے کئی بچے بھی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ اپنے بچوں کے لیے تحفہ لاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں، کبھی کبھی لاتا ہوں ۔ میں نے کہا کہ نہیں، آپ بار بار تحفہ لاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرا مطلب یہ ہے کہ روزانہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page