اعلیٰ معرفت
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے جس میں اللہ رب العالمین کی معرفت شامل ہو۔ دعا کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک دعا وہ ہے جو اپنی کسی حاجت کے لیے کی جائے، جس میں دعا کرنے والا اپنے کسی ذاتی مسئلے کا حوالہ دے کر اللہ سے اس کے حل کی درخواست کرے ۔ مثال کے طور پر ایک بے روزگار انسان کا روزگار حاصل کرنے کے لیے اللہ سے دعا کرنا۔ یہ عام قسم کی دعا ہے ۔ یہ دعا بھی ایک مطلوب دعا ہے اور اخلاص کے بقدر آدمی کو اس کا ثواب ملتا ہے ۔ یہ اللہ کے اوپر منحصر ہے کہ وہ ایسی دعا کو سن کر فوراً اس کو پورا کر دے یا اس کو مستقبل کے خانے میں ڈال دے۔ دوسری دعا وہ ہے جس میں دعا کرنے والا اس طرح دعا کرے کہ اس کا مسئلہ خود خدا کا مسئلہ بن جائے ۔ مثلاً قدیم اسپین میں قحط کے وقت سلطان عبد الرحمن الناصر ( وفات 961 ء) کی دعا جس میں اس نے کہا تھا: أتراك، تعذّب بي الرعيّة وأنت أرحم الراحمين، یعنی کیا تو میری وجہ سے عام لوگوں کو سزا دے گا، حالاں کہ تو ارحم الراحمین ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، ’اسماء حسنیٰ اسم اعظم‘، صفحہ 47 )۔ اس دعا میں قحط کے زمانے میں بارش کو خود خدا کی رحمت کا تقاضا قرار دیا گیا ہے ، نہ کہ صرف انسان کی ضرورت کا تقاضا۔ پہلی قسم کی دعا محض انسانی تقاضے کے تحت ظہور میں آتی ہے۔ لیکن دوسری قسم کی دعا ہمیشہ گہری معرفت کے تحت کسی انسان کے دل سے نکلتی ہے۔ دوسری قسم کی دعا ہمیشہ عارفانہ دریافت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس قسم کی دعا ہمیشہ کسی آدمی کے دل سے اُس وقت نکلتی ہے جب کہ اس کو اللہ کی قربت کا خصوصی تجربہ ہوا ہو۔ اس قسم کی دعا کی بہت سی مثالیں حدیث میں آئی ہیں۔ سفر معرفت خدا کی معرفت کا سفر لا الہ سے شروع ہوتا ہے اور پھر وہ الَّا اللہ تک پہنچتا ہے۔ آدمی کو پہلے متلاشی بننا پڑتا ہے، اس کے بعد وہ دریافت کرنے والے (finder) کا درجہ حاصل کرتا ہے۔ سفر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader