معرفت الہی
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے جس کو قرآن میں : (2:165 اشد حبا للہ) کہا گیا ہے، یعنی اللہ سے بہت زیادہ محبت کرنے والے۔ اسی طرح جب ایک انسان خدا کے عادل ہونے کو سوچتا ہے تو اس کے اندر وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن میں : (9:18 ولم یخش الا اللہ) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مومن کی شخصیت انھیں دو کیفیات کے ذریعے بنتی ہے۔ ایک طرف، وہ اپنے رب سے بہت زیادہ محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ اور دوسری طرف، وہ اپنے رب سے بہت زیادہ ڈرنے والا ہوتا ہے۔ خدا کی محبت ایک ایسی محبت ہے جو سراپا درد سے بھری ہوتی ہے۔ اسی طرح خدا سے خوف ایک ایسا خوف ہے جو محبت کے جذبات سے معمور ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا تعلق ہے جس میں آدمی جس ہستی سے پانے کی امید رکھتا ہے، اُسی ہستی کے بارے میں اس کو یہ اندیشہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کہیں اپنی رحمتوں سے اس کو محروم نہ کردے۔ یہ محبت اور خوف کا ایک ایسا امتزاج ہے جس کو محسوس کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ یہی اعلیٰ معرفت کی پہچان ہے۔ اعلیٰ معرفت سکون بھی ہے اور تڑپ بھی۔ اعلیٰ معرفت امید بھی ہے اور خوف بھی۔ اعلیٰ معرفت یقین بھی ہے اور بے یقینی بھی۔ اعلیٰ معرفت قربت بھی ہے اور دوری بھی۔ اعلیٰ معرفت ایک ایسا مقام ہے جہاں بندے کو کبھی یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ منزل پر پہنچ گیا اور کبھی اس کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ وہ ابھی راستے میں سرگرداں ہے۔ کبھی وہ اس احساس سے دوچار ہوتا ہے کہ وہ فل اسٹاپ (full stop) تک پہنچ گیا، اور کبھی وہ اس شک میں مبتلا رہتا ہے کہ ابھی وہ کاما (comma) کے مرحلے سے گزر رہا ہے— محبت اور خشیت کی انھیں کیفیات کا نام معرفت ہے۔ معرفت ایک تخلیقی موضوع معرفت کا کوئی سیٹ کورس (set course) نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اوراد و وظائف یا ذکر واشغال کا کوئی بنایا یا طریقہ ہے، جو شخص بھی اس کو دہرائے، اُس کو اپنے آپ معرفت حاصل ہو جائے گی۔ اس قسم کا کوئی نظریہ معرفت خداوندی کی تصغیر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفت ایک تخلیقی موضوع (creative subject) ہے۔ معرفت کے لیے اجتہادی ذہن درکار ہے۔ معرفت ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader