Urdu book · معرفت الہی

معرفت الہی

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

طوفانی تجربہ ہے۔ معرفت کسی شخص کو ذاتی دریافت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ جو معرفت کسی تقلیدی فارم کے دہرانے سے حاصل ہو، وہ کچھ اور چیز ہو سکتی ہے، وہ معرفت نہیں ہوسکتی۔ جس خدا کی صفت كلّ يوم هو فی شان ہو، اس کی معرفت کسی جامد یا تقلیدی کورس کے ذریعے حاصل نہیں کی جاسکتی۔ جس چیز کو سیکولر اصطلاح میں تخلیقی فکر (creative thinking) کہا جاتا ہے، مذہب کی زبان میں اُسی کا نام اجتہادی فکر ہے۔ اجتہادی فکر کا مطلب آزادانہ سوچ نہیں ہے، اجتہادی فکر کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے بیانات میں چھپے ہوئے معانی کو دریافت کیا جائے۔ معانی کی یہ دریافت اجتہادی فکر کے ذریعے ہوتی ہے۔ اسی اجتہادی فکر سے اعلیٰ معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہ خدائی کتاب (قرآن) اس لیے اتاری گئی ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں، وہ اپنی عقل کو استعمال کرکے اُس سے نصیحت حاصل کریں (29-37)۔ اسی غور وفکر پر مبنی نصیحت کا دوسرا نام معرفت ہے۔ اجتہادی معرفت کے حصول میں قرآن کی حیثیت ایک رہنما کتاب کی ہے۔ معرفت کے بنیادی اصول قرآن میں بتا دئے گئے ہیں۔ ان بنیادی اصولوں کی رہنمائی میں غور کر کے اُن کے اندر چھپے ہوئے معانی کو دریافت کرنا ہی اجتہاد ہے۔ اور اِسی اجتہادی عمل کے ذریعے اعلیٰ معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔ معرفت کا سفر قرآن میں خدا کی قدرت کو بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ آتے ہیں: إنما أمره إذا أراد شيئا أن يقول له كن فيكون (36:82) یعنی خدا جب کسی چیز کو وجود میں لانا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہو جا اور پھر وہ چیز ہو جاتی ہے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی قدرت اتنی زیادہ ہے کہ وہ چیزوں کو ایک لمحے کے اندر وجود میں لا سکتا ہے، مگر تخلیق کی تاریخ بتاتی ہے کہ خدا نے ایسا نہیں کیا۔ جدید سائنس کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page