گاڈ پارٹیکل
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
4 جولائی 2012 کو سائنس دانوں نے ایک دریافت کا اعلان کیا۔ اس کو نیئر ڈسکوری (near discovery) کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایک سب اسٹمک پارٹیکل (subatomic particle) کی دریافت ہے جس کے بارے میں پچھلے تقریباً 50 سال سے ریسرچ ہو رہی تھی۔ اسی درمیان 1993 میں ایک امریکی سائنس داں لیان لیڈر مین (Leon Lederman) نے ایک کتاب تیار کی۔ اس کا ٹائٹل اس نے گاڈ ڈیم پارٹیکل (Goddamn Particle) تجویز کیا۔ اُس وقت تک یہ پارٹیکل ایک پراسرار پارٹیکل بنا ہوا تھا۔ لیان لیڈر مین اپنی کتاب میں اس پارٹیکل کا کوئی واضح تصور نہیں دے سکاتھا۔ اس نے جھنجھلاہٹ میں اپنی اس کتاب کا نام گاڈ ڈیمن پارٹیکل رکھ دیا۔ گاڈ ڈیمن ایک بگڑا ہوا نام ہے۔ اردو میں کہتے ہیں خدا کی لعنت۔ خراب موسم ہو تو کہا جائے گا، گاڈ ڈیمن ویدر (Goddamn weather)۔ پبلشر کو کتاب کا یہ نام پسند نہیں آیا۔ اس نے بطور خود ڈیمن کا لفظ نکال دیا اور کتاب کو گاڈ پارٹیکل کے نام سے چھاپ دیا۔ اُس وقت سے عوامی طور پر اس ذرے کو گاڈ پارٹیکل کہا جانے لگا۔ تاہم سائنس دانوں کے نزدیک اس ذرے کا نام ہگز بوزان (Higgs Boson) ہے۔ بوزان کا لفظ در اصل بؤس کے نام سے لیا گیا ہے۔ ستیندر ناتھ بوس (SN Bose) ایک انڈین سائنس داں تھے۔ ان کی وفات 1974 میں ہوئی۔ انھوں نے 1924 میں نسَب اَسَمّک پارٹیکل (behaviour of subatomic particles) کے بارے میں ایک پیپر تیار کیا تھا۔ اس پیپر کو البرٹ آئن سٹائن (وفات: 1955) اور دوسرے سائنس دانوں نے بہت پسند کیا تھا۔ اُس وقت سے اس پارٹیکل کا نام بوزان (boson) پڑ گیا ہے۔ اس مخصوص پارٹیکل کو بوزان کا نام سب سے پہلے برٹش سائنس داں پال ڈیراک (Paul Dirac) نے دیا تھا۔ اسکاٹ لینڈ کے ایک سائنس داں پیٹر ہگز (Peter Higgs) نے 1964 میں اس موضوع پر زیادہ واضح انداز میں ایک مفصل پیپر تیار کیا، جس کا ٹائٹل یہ تھا: Broken Symmetries and the Masses of Gauge Bosons

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader