Urdu book · معرفت قرآن

گاڈ پارٹیکل

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

اس وقت سے زیر تلاش پارٹیکل کو ہگس بوزان کہا جانے لگا۔ سائنسی نقطہ نظر سے ہگس بوزان کی اہمیت بہت زیادہ تھی، اس لیے وہ ساری دنیا کے سائنس دانوں کے لیے تلاش کا موضوع بن گیا۔ آخر کار 1998 میں اس موضوع کی تحقیق کے لئے ایک خصوصی سرنگ بنائی گئی۔ اس سرنگ کو ایک یورپین ادارہ نے تیار کیا تھا۔ اس کا نام یہ ہے: European Oganization for Nuclear Research اس سرنگ کا نام یہ ہے — لارج ہیڈرون کولائڈر(Large Hadron Collider)۔ اس پروجیکٹ میں دنیا کے ایک سو ملک شریک ہوئے اور 10 ہزار سائنس دانوں اور انجینئروں نے اس میں کام کیا۔ 4 جولائی 2012 کو اس پروجیکٹ کے نتیجہ (result) کا اعلان کیا گیا۔ سائنس دانوں نے اعلان کیا کہ اس تحقیق میں وہ 'نیئر ڈسکوری' تک پہنچ گئے ہیں۔ ہگس بوزان، دراصل فرکس کے اسٹینڈرڈ ماڈل کا ایک گم شدہ پارٹیکل ہے جو اس بات کی توجیہ کرتا ہے کہ ابتدائی انفجار کے بعد کائنات کیسے وجود میں آئی۔ فرکس کے اسٹینڈرڈ ماڈل کو سائنس داں کائنات کے بلڈنگ بلاک (building block) کی توجیہہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس ماڈل کے مطابق، کائنات کا آغاز بگ بینگ سے ہوا۔ بگ بینگ کا نظریہ سائنس دانوں کے نزدیک عمومی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ 13 بلین سال پہلے کائنات ایک بہت بڑے کاسمک بال کی صورت میں تھی۔ کائنات کے تمام پارٹیکل اس کے اندر شدت سے باہم پیوست تھے۔ پھر اس کاسمک بال میں ایک انفجار ہوا اور اس کے تمام اجزا چاروں طرف روشنی کی رفتار سے سفر کرنے لگے۔ روشنی کی رفتار معلوم طور پر سب سے زیادہ ہے جو ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ کاسمک بال سے جو پارٹیکل خارج ہوئے، وہ نہایت تیزی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے تھے۔ ہر چیز جو اس کائنات میں ہے، وہ ایٹم سے بنی ہے۔ یہ تمام ایٹم الیکٹران اور پروٹان کے ملنے سے بنتے ہیں۔ ضرورت تھی کہ یہ تمام پارٹیکل باہم ملیں، لیکن بگ بینگ کے انفجار کے بعد الیکٹران اور پروٹان بھاگ رہے تھے، کیوں کہ اُن میں کمیت (mass) نہیں تھی۔ یہ ذرات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page