گاڈ پارٹیکل
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
باہم مل کر ایٹم کو صرف اُس وقت بنا سکتے تھے جب کہ ان کی رفتار کم ہو، اور ان کی رفتار صرف اُس وقت کم ہو سکتی تھی جب کہ ان کے اندر کمیت پیدا ہو جائے۔ ہگز بوزان کی اہمیت یہ ہے کہ وہ اس سائنسی مسئلے کا جواب فراہم کرتا ہے۔ ہگز بوزان ایک سب اٹمک پارٹکل کا نام ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق، ہگز بوزان کا کام یہ ہے کہ وہ ایٹم کے پارٹکل کو کمیت عطا کرے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایٹم مل کر مالی کیول (molecule) بنائیں اور پھر مالی کیول کے بننے سے کمپاؤنڈ بنے۔ پھر کمپاؤنڈ کے ملنے سے وہ تمام چیزیں بنتی ہیں جو کہ اس وقت کائنات میں موجود ہیں۔ اگر ہگز بوزان نہ ہوتے تو پارٹکل میں کمیت پیدا نہ ہوتی جو کہ باہم مل کر ایٹم بناتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ تمام پارٹکل روشنی کی رفتار سے خلا میں سفر کرنے لگتے، پھر یہ ناممکن ہو جاتا کہ وہ باہم مل کر ایٹم بنائیں اور اس کے بعد کائنات کی تمام چیزیں وجود میں آئیں، ستاروں سے لے کر سیاروں تک اور غیر ذی روح اشیا سے لے کر ذی روح اشیا تک۔ قرآن کی تصدیق قرآن کی ایک آیت ہے: أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (4:82)۔ یعنی کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے، اگر یہ (قرآن) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اُس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ یہ سائنس کی دریافتوں سے بہت پہلے کا زمانہ تھا۔ اس قبل در یافت زمانے میں قرآن کی اس آیت کا اترنا گویا یہ دعویٰ کرنا تھا کہ بعد کی دریافت شدہ حقیقتیں قرآن کے عین مطابق ہوں گی، قرآنی بیانات اور در یافتوں کے درمیان کبھی عدم مطابقت (inconsistency) نہ ہوگی۔ اس طرح یہ واقعہ اس بات کی تصدیق ہوگا کہ قرآن عالم الغیب کی کتاب ہے، کیوں کہ عالم الغیب کے سوا کوئی بھی پیشگی طور پر ان حقیقتوں کو نہیں بتا سکتا تھا۔ اس اعتبار سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بگ بینگ کا تصور اور ہگز بوزان کا تصور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader