Urdu book · معرفت قرآن

گرہن، خدائی معجزہ

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

کے برابر ہوگی اور سورج ہمالیہ پہاڑ سے بھی زیادہ بڑا ہوگا۔ یہ تین مختلف سائز کے اجسام حرکت کرتے ہوئے ایسے تناسب سے ایک سیدھ میں آجاتے ہیں کہ زمین سے دیکھنے والا ان کو یکساں سائز میں دیکھنے لگے۔ جب تینوں کے درمیان چاند ہو تو سورج گرہن واقع ہوگا۔ اور جب ان کے درمیان زمین ہو تو چاند گرہن واقع ہوگا۔ یہ وسیع خلا میں ایک انتہائی انوکھی پوزیشننگ کا معاملہ ہے: It is a uniquely well-calculated positioning of three moving bodies, highly unequal in size, in the vast space. گرہن (eclipse) اُس وقت واقع ہوتا ہے جب کہ وسیع خلا کے تین اجرام، زمین، چاند، سورج، انتہائی متناسب دوری کے ساتھ بالکل ایک سیدھ میں آجائیں۔ یہ ایک انتہائی حیرت ناک ظاہر ہ ہے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے انسائیکلوپیڈیا بریٹائکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے — ایک انتہائی غیر معمولی توافق کی بنا پر سورج اور چاند کا سائز اور دوری ایسے ہو جاتے ہیں کہ زمین سے بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے گویا کہ دونوں بالکل برابر ہوں: By a remarkable coincidence, the sizes and distances of the Sun and Moon are such that they appear as very nearly the same angular size as the earth. (EPB 6/189) گرہن کے اس عجیب واقعے کو مقالہ نگار نے محض اتفاق (coincidence) قرار دیا ہے۔ مگر یہ بالکل غیر منطقی بات ہے۔ اس قسم کا نادر اتفاق اولاً تو ممکن نہیں اور بالفرض اگر ایسا ہو جائے تو وہ بمشکل ایک بار ہو سکتا ہے، لیکن فلکیاتی تاریخ بتاتی ہے کہ گرہن کا یہ واقعہ لاکھوں برس سے اسی طرح پابندی (regularity) کے ساتھ ہر سال پیش آرہا ہے۔ اس قسم کی کامل باضابطگی ہرگز اتفاقاً نہیں ہو سکتی۔ یقینی طور پر وہ ایک قادر مطلق ہستی کی مسلسل کار فرمائی کے باعث ہی ممکن ہے۔ اتفاق کا لفظ اس حیرت ناک فلکیاتی ظاہرے کی توجیہہ کے لیے آخری حد تک ناکافی ہے۔ گرہن، خلا میں پیش آنے والے اُن بے شمار معجزاتی واقعات میں سے ایک ہے جن کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page