گرہن، خدائی معجزہ
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ (36:38)۔ یعنی یہ عزیز اور علیم خدا کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے: That is the disposition of the Almighty, the All Knowing. وسیع خلا میں بے شمار اجزا ہیں۔ یہ تمام اجزا مکمل طور پر خداوند عالم کے کنٹرول میں ہیں۔ سیاروں اور ستاروں کی گردش انتہائی حد تک خدا کے مقررہ ضابطہ کی پابندی میں ہوتی ہے۔ شمسی نظام اسی کا ایک نمونہ ہے جس کے اندر ہماری زمین واقع ہے۔ یہ نظام اپنی خاموش زبان میں اعلان کر رہا ہے کہ اس کائنات کا ایک قادر مطلق خدا ہے جو وسیع خلا میں اُن پر کامل کنٹرول کیے ہوئے ہے۔ انھیں معجزاتی واقعات میں سے ایک گرہن کا واقعہ ہے۔ سورج گرہن اور چاند گرہن ہمارے قریبی مشاہدے کی چیزیں ہیں۔ لوگ اُس کو عجوبہ کے طور پر یا زیادہ سے زیادہ ایک فلکیاتی کورس کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے الفاظ میں، وہ خدا کی ایک عظیم نشانی ہے۔ اسی لیے اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب گرہن واقع ہو تو لوگ خدا کی عبادت کریں۔ اس عبادت کو صلاۃ کُسوف اور صلاۃ خُسوف کہا جاتا ہے۔ گرہن کے وقت خدا کی عبادت کرنا اس بات کا اعتراف ہے کہ گرہن ایک خدائی ظاہر ہے، نہ کہ محض ایک فلکیاتی ظاہرۂ۔ ✩ ✩ ✩ ✩ ✩ سائنس، سادہ طور پر، عالم حقائق کے مطالعہ کا نام ہے۔ قرآن میں یہی صفت اہل ایمان کی بتائی گئی ہے۔ کہ وہ زمین و آسمان کی بناوٹ پر غور کرتے ہیں (آل عمران: 191)۔ اس اعتبار سے ایک سائنس داں وہی کام کرتا ہے جو ایک مومن کرتا ہے۔ تاہم دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ سائنس داں کا عمل صرف تحقیق کے لئے ہوتا ہے اور مومن کا عمل عبرت کے لئے۔ سائنس داں کے پیش نظر علم برائے علم ہوتا ہے اور مومن کے پیش نظر علم برائے مقصد۔ سائنس داں اضافۂ علم پر مطمئن ہوتا ہے اور مومन اضافہ ایمان پر۔ (اسلام پندرہویں صدی میں)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader