دور شرک، دورِ الحاد
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بلب کا پاور ہاؤس سے تعلق قائم ہونا۔ شرک کی برائی یہ تھی کہ اس نے انسان کی اس طلب کے لیے اس کو ایک غیر واقعی بدل (false substitute) دے دیا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ انسان کو اس کی فطری طلب کا مرکز نہیں ملا اور نتیجہ انسان اپنی شخصیت کے اُس ارتقا سے محروم ہو گیا جو اس کے لیے پیدائشی طور پر مقدر تھا۔ جدید الحاد کے دور میں دوبارہ انسان ایک اور اعتبار سے اسی محرومی کا شکار ہو گیا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو علم قلیل دیا گیا ہے (الاسراء: 85)۔ انسان کے لیے آزادی بہت اچھی چیز ہے، لیکن انسان اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے کامل آزادی کا تحمل نہیں کر سکتا۔ انسان کے لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ وہ اپنی اِس محدودیت (limitation) کو جانے اور مقید آزادی (guided freedom) پر راضی ہو جائے۔ جدید الحاد نے آزادی کو خیر مطلق (summum bonum) قرار دے کر انسان کو اس کی فطرت کے راستے سے ہٹا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر ہر قسم کی ترقیوں کے باوجود انسان اُس اہم ترین چیز سے محروم ہو گیا جس کو ذہنی سکون (peace of mind) کہا جاتا ہے۔ ☆☆☆☆☆ سائنس کے میدان میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کی وجہ اگر مختصر طور پر بتائی ہو تو وہ صرف ایک ہوگی: مسلمانوں میں سائنسی شعور نہ ہونا۔ ہندوستان کا زمین دار طبقہ جدید تجارت میں پیچھے کیوں ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اندر تجارتی شعور موجود نہ تھا۔ یہی واقعہ سائنس کے سلسلہ میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا۔ ایک یا ایک سے زیادہ اسباب کی بنا پر مسلمانوں کے اندر جدید دور میں سائنسی شعور پیدا نہ ہوسکا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے سائنس کی تعلیم کی طرف توجہ نہ دی اور اگر تو جدی بھی تو ادھوری شکل میں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader