دورِ مواصلات
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
دورِ مواصلات قرآن کی سورہ بنی اسرائیل میں ایک آیت آتی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (17:70)۔ یعنی ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی، اور ہم نے ان کو خشکی اور دریا میں سوار کیا۔ اس دنیا میں موجود تمام حیوان اپنے پیروں کے ذریعہ سفر کرتے ہیں، چڑیا کا سفر اپنے پر کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ انسان کی ایک امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ خارجی سواری کے ذریعہ اپنا سفر کر سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں جدید مواصلات (modern communication) کی ایجاد نے سواری (transportation) کے تصور کو بہت بڑھا دیا ہے۔ آج کے انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ جسمانی حمل ونقل (physical transportation) سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرے اور اسی کے ساتھ افکار کے حمل ونقل (transportation of ideas) کو بھی نہایت سرعت رفتار سے انجام دے سکے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں براہِ راست طور پر صرف حیوانی مواصلات کا ذکر ہے، مگر بالواسطہ طور پر اس میں ہر قسم کے مواصلات بشمول مواصلات بذریعہ ٹکنالوجی کا اشارہ موجود ہے۔ آدمی اگر اس آیت کو اس کے وسیعی مفہوم (extended meaning) کے ساتھ پڑھے تو یہ آیت اس کے لیے کائناتی معرفت کا ذریعہ بن جائے گی۔ اس آیت میں وہ اللہ کی کائناتی نعمت کو دریافت کرے گا۔ یہ ایک آیت اس کے لیے بلین ٹریلین سے بھی زیادہ معانی کا خزانہ بن جائے گی۔ قرآن معروف معنوں میں کوئی معلوماتی کتاب نہیں۔ لیکن قرآن کے اندر وہ تمام معلومات موجود ہیں، جن کا تعلق معرفت سے ہے۔ یہ معلومات زیادہ تراشارات کی صورت میں ہیں۔ ان آیتوں پر غور کر کے ان کے اندر چھپے ہوئے معانی کو دریافت کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ تدبر اور تفکر ہے جس سے معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو آدمی کے ایمان کو یقین کے درجے تک پہنچا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں تدبر کو نصیحت (ص: 29) کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader