Urdu book · معرفت قرآن

تسخیر کائنات

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

دوربین(telescope)بنائے۔ چناں چہ موجودہ زمانے میں خلائی دوربین کو استعمال کر کے انسان بے شمار ستاروں اور کہکشاؤں کو دیکھتا ہے۔ سمندروں (اور حیوانات) کے معاملے میں تسخیر کا مطلب یہ تھا کہ انسان قانونِ فطرت کو جانے اور اس کی مدد سے ان چیزوں کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرے۔ عالم نجوم کے معاملے میں تسخیر کا مطلب اُن کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرنا نہیں ہے، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وسیع عالم نجوم کو انسان آلات کی مدد سے دیکھے، وہ ان پر غور و فکر کرے۔ وہ غور و فکر کے ذریعے عالم نجوم کو اعلی معرفت کے حصول کا ذریعہ بنائے۔ سمندروں اور حیوانات کی تسخیر انسان کی خدمت کے لیے ہے۔ اور عالم نجوم کی تسخیر اس لیے ہے کہ ان کے ذریعے سے آدمی خالق کی عظمت کو دریافت کرے۔ وہ اُن میں غور و فکر کر کے اپنے لیے معرفتِ اعلیٰ کا رزق حاصل کرے۔ ☆☆☆☆☆ ایک سائنسداں نے کہا: میری زندگی کا حاصل بحیثیت سائنسٹ اور جغرافیہ دال یہ ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ خالق کا شکر گزار ہو گیا ہوں: سائنس داں جب قدرت کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے اندر قدرت کی عظمت کا بے پناہ احساس ابھرتا ہے۔ اس کا اندرونی وجود اس ہستی کے آگے جھک جاتا ہے جس نے اتنی بامعنی کائنات بنائی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں خدا کے انکار کا ذہن سائنس دانوں نے نہیں بنایا۔ یہ در اصل کچھ ملحد فلاسفہ تھے، جنھوں نے سائنسی دریافتوں کو غلط رخ دے کر اس سے خود ساختہ طور پر انکارِ خدا کا مطلب پیدا کیا۔ حالاں کہ یہ سائنسی دریافتیں زیادہ درست طور پر اقرارِ خدا کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔ (ڈائری، 1985)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page