تسخیر کائنات
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ انسانی کا خاتمہ 12 اگست 2012 کو امریکہ کی ایک خبر تمام اخباروں میں نمایاں طور پر شائع ہوئی۔ وہ خبر یہ تھی کہ ایک امریکی صحافی کو نظریاتی سرقہ (plagiarism) کا مرتکب پایا گیا اور اس بنا پر اس کو اس کے صحافتی جاب سے فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔ اس خبر کی سرخی تھی: American journalist suspended for plagiarism. نظریاتی سرقہ کیا ہے، وہ دراصل کسی شخص کی فکری پراپرٹی (intellectual property) کا سرقہ کرنے کا نام ہے۔ نظریاتی سرقہ یہ ہے کہ کسی شخص کے آئیڈیا کو اصل مصنف کے حوالے کے بغیر اپنا بنا کر نقل کیا جائے: Plagiarism: Copying someone's idea without crediting the original author. (Merriam-Webster Dictionary) یہ معاملہ امریکہ کے مشہور صحافی مسٹر فرید زکریا کا ہے۔ وہ امریکی میگزین ٹائم (Time) کے ایڈیٹر تھے۔ انھوں نے ٹائم کے شمارہ 20 اگست 2012 میں اپنا ایک مضمون گن کلچر کے موضوع پر شائع کیا۔ اس کا عنوان یہ تھا : The Case for Gun Control اس مضمون میں انھوں نے ایک پیرا گراف شامل کیا تھا جو پورا کا پورا، ایک اور شائع شدہ مضمون سے لیا گیا تھا۔ یہ دوسرا مضمون امریکا کی ایل (Yale) یونیورسٹی کی ایک خاتون پروفیسر جل لیپور (Jill Lepore) کا تھا، جس کو مسٹر فرید زکریا نے بلا حوالہ اپنے مضمون میں شامل کر لیا تھا۔ یہ مضمون امریکا کے ایک اخبار نیو یارکر (The New Yorker) کے شمارہ 22 اپریل 2012 میں اس عنوان کے تحت چھپا تھا: Battleground America نظریاتی سرقہ کا یہ واقعہ جو عالمی میڈیا میں آیا ہے، وہ کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ وہ دراصل اس قسم کے ایک زیادہ بڑے سرقہ (super plagiarism) کے لیے ایک یاددہانی (reminder) کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ایک انسان کی برخاستگی کے حوالے سے یہ یاد دلار ہا ہے کہ شاید وہ وقت آ گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader