تسخیر کائنات
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث نمبر 5414 )۔ یعنی عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ممبر کے اوپر قرآن کی مذکورہ آیت پڑھی۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوئے کہا کہ اللہ اپنی تمجید خود کرے گا (اور کہے گا) میں ہوں جبار، میں ہوں متکبر، میں ہوں بادشاہ، میں ہوں زبردست، میں ہوں کریم ۔ یہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لرزہ طاری ہوا، یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ شاید آپ گر پڑیں۔ بعض روایتوں میں ہے کہ اللہ کہے گا: أنا الملك، أين ملوك الأرض (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4812 )۔ یعنی میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ - أين الجبارون، أين المتكبرون (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2788 )۔ کہاں ہیں جبار، کہاں ہیں متکبر ۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت آگیا ہے جب کہ خالق کائنات ظاہر ہو اور براہ راست طور پر دنیا کا چارج لے لے۔ اسباب کے اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ قرآن میں جس آنے والے وقت کی پیشین گوئی کی گئی تھی، وہ وقت بالفعل آچکا ہے، اُس وقت کے آنے میں اب کوئی دیر نہیں ۔ لائف سپورٹ سسٹم کی تباہی دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے انسان کو بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے۔ مثلاً پانی، روشنی، آکسیجن، نباتات، وغیرہ ۔ ان چیزوں کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے، یعنی معاون حیات نظام ۔ سائنس کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین پر یہ معاون حیات نظام خطرناک حد تک بگڑ گیا ہے، سائنس داں برابر یہ انتباہ دے رہے ہیں کہ زمین پر انسان کی آبادی کاری بہت جلد ناممکن ہو جائے گی، یہاں تک کہ مشہور برٹش سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ نے اِس صورت حال کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کو اب خلائی بستیاں (space colonies) بنانا چاہیے، حالاں کہ اسٹیفن ہاکنگ اور دوسرے تمام لوگ جانتے ہیں کہ یہ تجویز عملاً ممکن نہیں۔ زمین کا وہ حصہ جس کو آرکٹک (Arctic) کہا جاتا ہے، یہ برف کے بہت بڑے پہاڑ کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader