Urdu book · معرفت قرآن

تسخیر کائنات

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

مانند ہے جو کئی ہزار مربع میٹر کے رقبے میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ برفانی پہاڑ زمین پر موسم کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ آرکٹک (قطب شمالی) کا یہ علاقہ مختلف پہلوؤں سے زمین پر انسان کی آبادی کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ مگر بیسویں صدی کے ربع آخر میں، جب سے گلوبل وارمنگ کے ظاہر نے شدت اختیار کی ہے، قطب شمالی کی یہ برف بہت تیزی سے پگھل رہی ہے۔ سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق، شاید اندیشہ ہے کہ اگلے 10 برسوں میں یہ پورا برفانی پہاڑ پگھل کر سمندروں میں چلا جائے۔ اس کی بنا پر مختلف قسم کے خطرناک نتائج پیدا ہوں گے جو زمین کو انسان کے لیے ناقابل رہائش بنا دیں گے۔ اس سائنسی تحقیق کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (14 اگست 2012) میں حسب ذیل عنوان کے تحت شائع ہوا ہے: Arctic Sea Ice May Vanish in 10 Years (p. 19) خلاصہ کلام اوپر جو کچھ لکھا گیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان نے اُس نوعیت کا ایک بہت بڑا واقعہ کیا ہے جس کو نظریاتی سرقہ کہا جاتا ہے۔ وہ چیز جس کو جدید تہذیب کہا جاتا ہے، وہ پوری کی پوری اسی جرم کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ اس جرم میں موجودہ زمانے کی پوری آبادی شریک ہے۔ جن لوگوں نے اس تہذیب کو وجود دیا، وہ اس جرم میں براہِ راست طور پر شریک ہیں، اور بقیہ لوگ جو تہذیب کے اس جرم پر نگیر (denial) کیے بغیر اُس سے فائدہ اٹھارہے ہیں، وہ بالواسطہ طور پر اس جرم میں شریک ہیں۔ اس نظریاتی سرقہ (plagiarism) کے خلاف خالق کی کارروائی اب مستقبل بعید کی چیز نہیں رہی۔ یہ کارروائی اب عملاً شروع ہو چکی ہے۔ اس کارروائی کو ایک لفظ میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ خالق نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ انسان کو مذکورہ جرم کی بنا پر زمین سے بے دخل کر دیا جائے۔ خالق کا یہ فیصلہ لائف سپورٹ سسٹم کے خاتمے کی صورت میں بتدریج ظاہر ہو رہا ہے۔ بظاہر وہ وقت بہت قریب آ چکا ہے جس کی پیشین گوئی قرآن کی مختلف آیتوں میں کی جا چکی تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page