Urdu book · معرفت قرآن

معرفت کی تاریخ

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

معرفت کی تاریخ کائنات اور انسان کی صورت میں جو عظیم دنیا ہمارے سامنے ہے، وہ بلاشبہ ایک خدائی منصوبے کے تحت بنائی گئی ہے۔ اور خدائی منصوبے کے مطابق، اس کا ایک با معنی انجام ہونا مقدر ہے۔ یہ بلاشبہ سنجیدہ مطالعے کا ایک موضوع ہے۔ اس کا تعلق ہر فرد سے بھی ہے اور پوری انسانی تاریخ سے بھی۔ اس معاملے میں متعلق لٹریچر (relevant literature) کے گہرے مطالعے سے جو تصویر بنتی ہے، اس کو یہاں درج کیا جاتا ہے۔ علمی مطالعہ کے مطابق، اللہ رب العالمین نے موجودہ کائنات کا آغاز تقریباً تیرہ بلین سال پہلے کیا۔ اس مدت میں منصوبہ بند انداز میں تدریجی (gradually) طور پر پوری کائنات وجود میں آئی۔ اس مدت کو وسیعی تقسیم (broad division) کے مطابق چھ بڑے ادوار (periods) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ 1- اس سلسلے میں معلوم طور پر، پہلا واقعہ جو اس کائنات میں پیش آیا، وہ یہ تھا کہ خالق نے تقریباً 13 بلین سال پہلے خلا (space) میں ایک عظیم دھماکہ بیج (manage) کیا۔ اس دھماکہ کو انگلش عالم فلکیات (astronomer) فریڈ ہائل (Fred Hoyle) نے 1949 میں بگ بینک (Big Bang) نام دیا۔ یہ بگ بینک اب سائنسی طور پر ایک ثابت شدہ واقعہ (established fact) بن چکا ہے۔ اس دھما کہ سے موجودہ کائنات کا آغاز ہوا۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: أَوَ لَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاهُمَا (21:30) یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اس کا مطلب سائنسی معلومات کی روشنی میں یہ ہے کہ ابتدا میں ایک عظیم گولا (super atom) تھا، جس کے اندر کائنات کے تمام پارٹیکل موجود تھے۔ اس دھماکے کے بعد بگ بینک کے پارٹیکل (particles) وسیع خلا میں تیزی سے پھیل گئے۔ اور پھر ایک حکیمانہ منصوبہ کے تحت مختلف مراحل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page