معرفت کی تاریخ
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
4- چوتھا بڑا واقعہ جو زمین پر پیش آیا وہ دنیائے نباتات کا وجود میں آنا تھا۔ اس کو پلانٹ بینک کہا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد زمین جو پہلے خشک کرہ کی مانند تھی ، اب سرسبز سیارہ (Green Planet) کی صورت اختیار کر گئی۔ اس واقعہ کا اشارہ قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَأَنْزَلْنَا مِنَ المُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا ، لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًا ، وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا (78:14-16) یعنی اور ہم نے پانی بھرے بادلوں سے موسلا دھار پانی برسایا۔ تا کہ ہم اس کے ذریعہ سے اگائیں غلہ اور سبزی۔ اور گھنے باغ۔ 5- اس سلسلہ کا پانچواں دور وہ ہے جب کہ زمین پر مختلف قسم کی جاندار چیزیں وجود میں آئیں، کیڑے مکوڑوں سے لے کر ہاتھی اور شیر تک ۔ تخلیق کے اس پانچویں فیز (phase) کو انیمل بینک (animal bang) کہا جاسکتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں مختلف قسم کے بیشمار جاندار اشیاء (species) پیدا ہوئیں، جن کی واقعی تعداد اب تک نامعلوم ہے: Eight million seven hundred thousand is the latest estimated total number of species on Earth and the most precise calculation ever offered, according to a study co-authored by a researcher with the United Nations Environment Programme(UNEP). Around 6.5 million species are found on land and 2.2 million (about 25 percent of the total) dwell in the ocean depths. The report also shows that 86% of all species on land and 91% of those in the seas have yet to be discovered, described or catalogued. 6- اس سلسلہ میں چھٹا بینک وہ تھا جس کو ہیومن بینک (Human Bang) کہا جاسکتا ہے۔ اس آخری دور میں انسان کو پیدا کیا گیا، اور نسل درنسل پھیلتا ہوا اس زمین (planet earth) پر آباد ہو گیا۔ بظاہر یہ کہا جاسکتا ہے کہ تقریبا 13 بلین سال کے دوران تمام تخلیقی واقعات منصوبہ بندانداز میں پیش آئے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ آخر کار انسان کو پیدا کر کے اس کو زمین پر آباد کیا جائے۔ اور پھر انسان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی آزادانہ کوشش سے اس چیز کو وجود میں لائے جس کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے۔ تہذیب گو یا محدود معنی میں کلمات اللہ (18:109 ,31:27) کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader