معرفت کی تاریخ
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
جزیٔی ان فولڈنگ (unfolding) تھی۔ فطرت کے اس طریق عمل کا یہ نتیجہ تھا کہ انسان کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنی عقل کو اعلیٰ ارتقائی درجہ (high level of development) تک پہنچا سکے۔ موجودہ کائنات کے دو حصے ہیں، انسانی دنیا (human world) اور دوسرے غیر انسانی دنیا (non-human world)۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر انسانی دنیا خارجی طور پر پنچ کی جانے والی دنیا (externally managed world) ہے۔ اس کے مقابلے میں انسانی دنیا خود پنچ کی جانے والی دنیا (self-managed world) ہے۔ اب تاریخ ایک ایسے اعلیٰ ترقی یافتہ دور (super developed world) کی طرف جارہی ہے جہاں ماضی کے ریکارڈ کے مطابق غیر مطلوب انسانوں کو چھانٹ دیا جائے، اور مطلوب انسانوں کو الگ کر کے یہ موقع دیا جائے کہ وہ آئیڈیل ورلڈ میں ابدی راحت کی زندگی گزاریں۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیا ہے ۔ صادقین زمین کے وارث ہوں، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے: The righteous will inherit the land, and dwell in it permanently. (Psalm: 37:29) بائبل میں مذکور اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (21:105)۔ یعنی اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ یہ دنیا پوری تاریخ بشری کے منتخب انسانوں کا معاشرہ ہوگا۔ یہ منتخب افراد دراصل دور ماضی کے تربیت یافتہ افراد (trained individuals) ہوں گے۔ یہاں پوری تاریخ کے منتخب افراد (selected people of history) کو یہ موقع ہوگا کہ وہ اعلیٰ فکری سرگرمیوں (high level high) کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ اس اعلیٰ معاشرہ ( of intellectual activities society) کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (4:69)۔ یعنی یہ اہل جنت ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader