مارکسزم کیا ہے؟
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ مارکس نے اس مسئلہ پر غور کیا کہ ہمارا موجودہ سماج اس حالت پر کیوں پہنچ گیا۔ اس میں تبدیلی کیوں ہوتی رہتی ہے اور آئندہ اس میں کس قسم کی تبدیلی کا امکان ہے۔ وہ اپنے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ جس طرح بیرونی دنیا کے واقعات اتفاقی طور پر نہیں ہوتے، اسی طرح سماج میں بھی کوئی تبدیلی محض اتفاق سے نہیں ہو جاتی۔ اس کے پیچھے خاص اصول کارفرما ہوتے ہیں۔ جس طرح نیوٹن اور آئن سٹائن نے کائنات کی حرکت کے قوانین معلوم کرنے کی کوشش کی اور اس کے اصول مرتب کئے ۔ اسی طرح مارکس نے تاریخ انسانی کا مطالعہ کر کے وہ سائنٹفک اصول‘ دریافت کئے جو سماج کی تبدیلیوں میں کام کرتے ہیں۔ اس نے کہا کہ ہماری سوسائٹی میں جو تبدیلی ہوتی رہتی ہے وہ چند خاص اصولوں اور قوانین کی پابند ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے کائنات کی دوسری چیزیں خاص قوانین کی پابند ہیں۔ یہ دونوں قانون ایک ہی نوعیت کے ہوتے ہیں، یہ قوانین جو ہمارے اطراف کی کائنات اور ہماری سوسائٹی دونوں پر یکساں حیثیت سے صادق آتے ہیں۔‘ انہی کا نام مارکسی فلسفہ یا کائنات کا مارکسی نقطۂ نظر ہے۔ دوسرے لفظوں میں مارکس کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ عالم مادی اور عالم انسانی دونوں ایک ہی قسم کے قانون کے پابند ہیں۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں ایک کمیونسٹ مفکر کے الفاظ ہیں : ” تمام نیچر ایک ہے، اس لیے اس کو سمجھنے کے لیے سائنس کا اسلوب بھی ایک ہے۔ اب اس اسلوب کو خواہ چٹانوں کو سمجھنے کے لیے استعمال کیا جائے، خواہ بینکروں اور مل مالکوں کی دنیا پر اسے چسپاں کیا جائے۔ مارکس اور اینگلس کی عظمت کا راز یہ ہے کہ انھوں نے سائنس کے اس بنیادی اسلوب کو انسانی سماج پر بھی اسی طرح منطبق کیا جس طرح کہ ان سے پیشتر یہ جمادات، نباتات وغیرہ پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ انھوں نے تاریخی واقعات، اقتصادی مواد اور فلسفیانہ نظر یوں کا جو کہ تاریخ کے دامن میں صدہا سال سے جمع ہوتے جا رہے تھے ٹھیک طرح مرتب کیا، تولا، کلیئے قائم کیے اور انسان کے باہمی تعلقات کے ان تمام قوانین کو دریافت کیا جس کے بغیر یہ سماجی زندگی ایک الجھا ہوا معمہ نظر آتی تھی۔‘ اس طرح مارکس نے کہا کہ انسانی سماج کی ایک سائنس ہے جس کے اپنے قوانین ہیں اور اسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader