Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

مارکسزم کیا ہے؟

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

لئے وہ ماضی اور مستقبل دونوں کی تشریح کر سکتی ہے۔ مارکس نے یہ قوانین مرتب کئے اور ان کو استعمال کر کے مستقبل کے سماج کے بارے میں بہت سی پیشین گوئیاں کرنے کی جرات کی۔ جس طرح فلکیات کا ایک ماہر ستاروں کے بارے میں پیشین گوئی کرتا ہے۔ میں نے یہاں”جرات‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے کیوں کہ جو شخص ہمیں یہ بتائے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ وہ قدرتی طور پر اس کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے کہ حالات اس کے الفاظ کو غلط نہ قرار دیں۔ وقت اس شخص کے نظریہ کے صحیح یا غلط ہونے کا امتحان ہوتا ہے جو مستقبل کے بارے میں کچھ کہنے کی جرات کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص اگر یہ اعلان کرے کہ زمین جس قانون کے تحت گردش کر رہی ہے، وہ میں نے معلوم کر لیا ہے اور اس قانون کے مطابق یہ ہوگا کہ زمین ایک سوا یک دن میں چاند سے ٹکرا جائے گی تو اس شخص کے دعوے کے غلط ہونے کے لیے اتنی بات کافی ہوگی کہ ایک سوا یک دن گزرنے کے بعد بھی زمین کی گردش حسب دستور جاری رہے اور وہ چاند سے نہ ٹکرائے۔ اس طرح مارکس کا یہ نظریہ کہ زندگی کے واقعات طبعی سائنس کی طرح ایک لازمی قانون کے تحت پیش آتے ہیں، خود بخود غلط ثابت ہو جائے گا۔ اگر مستقبل کے واقعات ان پیشین گوئیوں کی تصدیق نہ کریں جو مارکس نے اپنے نظریے کے مطابق ماضی میں کی تھیں، ممکن ہے مارکس کی زندگی میں اس کے نظریے کی صحت یا عدم صحت کے بارے میں فیصلہ نہ کیا جا سکتا ہو۔ مگر اب سو برس گزرنے کے بعد تو خود زمانہ ایک ایسی بنیاد ہے جس کی روشنی میں جانچ کر ایک معمولی آدمی بھی مارکس کے نظریہ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ مارکس کے اس نظریے کے تین اہم اجزاء ہیں: اول یہ کہ جس طرح ستاروں کی گردش کا ایک قانون ہے جس کے مطابق وہ مسلسل حرکت کر رہے ہیں، اسی طرح انسانی سماج بھی ایک طے شدہ راہ پر سفر کر رہا ہے۔ مارکسزم کے نزدیک سائنس کے قوانین ـــــــــ چاہے وہ فطری سائنس سے متعلق ہوں یا سماجی سائنس سے ــــــــــ سبھی خارجی اعمال کا عکس ہیں جو انسان کی مرضی سے آزاد ہو کر اپنا کام کرتے ہیں۔ آدمی ان کو نہ تو بدل سکتا ہے اور نہ 1۔ شیر جنگ، کارل مارکس اور اس کی تعلیمات صفحہ ۷۲

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page